بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
شوہر کا اپنی صاحب نصاب بیوی کی طرف سے قر بانی کرنا
سوال
اگر کوئی عورت صاحب نصاب ہو مگر اس کے پاس نقد رقم یا فوری ادائیگی کی استطاعت نہ ہو کہ وہ خود قربانی کر سکے، تو کیا شرعاً اس کے شوہر کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ اس کی طرف سے قربانی کرے؟
جواب
اگر کوئی صاحب نصاب ہو، لیکن اس کی اجازت سے دوسرا شخص اس کی طرف سے قر بانی کرے،تو شرعا یہ جائز ہے ۔
لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق شوہر اگر بیوی کی اجازت سےاس کی طرف سے قربانی کرے تو یہ جائز ہےیہ قربانی بیوی کی طرف سے شمار ہوگی اوراس کا ذمہ فارغ متصور ہو گا ۔
ولو ضحى ببدنة عن نفسه وعرسه وأولاده ليس هذا في ظاهر الرواية وقال الحسن بن زياد في كتاب الأضحية: إن كان أولاده صغارا جاز عنه وعنهم جميعا في قول أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى -، وإن كانوا كبارا إن فعل بأمرهم جاز عن الكل في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى، وإن فعل بغير أمرهم أو بغير أمر بعضهم لا تجوز عنه ولا عنهم في قولهم جميعا.(الفتاوى الهندية،كتاب الأضحية،الباب السابع في التضحية،ج:5،ص:302)