بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
حلق یا قصرکیے بغیرحدود حرم سے نکلنا
سوال
اگر کوئی شخص حلق یا قصر کیے بغیر حدود حرم سے نکل گیا ،توکیا حکم ہے؟
جواب
واضح رہےکہ حج یا عمرہ کے تمام ارکان مکمل کرنے کے بعد احرام سے نکلنے کے لیے حلق یا قصرکرنا واجب ہےاوراسی سے آدمی احرام کی حالت سے باہرآتا ہے اوراس پرعائد تمام پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں، حلق یا قصر حدود حرم کے اندرکرنا ضروری ہے، اس لیے اگر کسی نے حدود حرم سے باہرحلق یا قصرکیا، تو صحیح قول کے مطابق اس پردم لازم ہوگا، البتہ حالت احرام میں حدود حرم سے باہرجانا کوئی گناہ نہیں اورنہ ہی اس سے دم واجب ہوتا ہے، چنانچہ اگر کوئی شخص بغیر حلق یا قصرکیے حرم سے باہر چلا جائے اور پھر واپس آ کر حدود حرم کے اندر حلق یا قصرکرلے، تو اس پرکوئی دم لازم نہیں ہوتا۔
فإن لم يقصر حتى رجع وقصر فلا شيء عليه في قولهم جميعا.معناه إذا خرج المعتمر ثمّ عاد؛لأنّه أتى به في مكانه فلا يلزمه ضمانه. (الهداية، كتاب الحج، باب الجنايات، ج:1، ص:270)
وتجب شاة بتأخيرالنّسك عن مكانه، كما إذاخرج من الحرم وحلق رأسه، سواء كان الحلق للحجّ أو للعمرة عند أبي حنيفة ومحمّد رحمهما الله. (الفتاوى الهندية،كتاب المناسك، الفصل الخامس، ج:1، ص:311)