بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عقیقہ کے جانورکی بجائے اس کی رقم غریب کو دینا


سوال

میں اپنے بچوں کاعقیقہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں اور ميرے پڑوس ميں غريب لوگ ہیں میں چاہتا ہوں کہ میں بکری کی قیمت غریبوں کو دے دوں،توکیا عقیقہ کے جانورکی جگہ اس کی رقم کسی غریب کو دینے سےعقیقہ ادا ہو جائے گا؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی کی طرح عقیقہ میں بھی جانور کا خون بہانا عبادت ہے۔ احادیث مبارکہ میں بچے کے عقیقہ کے موقع پر بکری یا بکرا ذبح کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ لہذاصورتِ مسئولہ کے مطابق جب سائل اپنے بچوں کا عقیقہ کرنے کا ارادہ رکھتاہے، تو بکری ذبح کرنے کی بجائے اس کی قیمت صدقہ کرنے سے عقیقہ ادا نہ ہوگا۔

 

عن يوسف بن ماهك «‌أنهم ‌دخلوا ‌على ‌حفصة بنت عبد الرحمن فسألوها عن العقيقة» فأخبرتهم أن عائشة أخبرتها، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرهم عن الغلام شاتان مكافئتان، وعن الجارية شاة۔ (سنن الترمذي، أبواب الأضاحي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء في العقيقة، ج:3، ص:175، رقم الحديث:1513)

عن سمرة بن جندب، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «‌كل ‌غلام ‌رهينة ‌بعقيقته تذبح عنه يوم سابعه ويحلق ويسمى»۔ (سنن أبي داؤد، كتاب الضحايا، باب في العقيقة، ج:3، ص:106، رقم الحديث:2838)


فتویٰ نمبر : 10552/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور