بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
بغیر وضو کے یا حالت جنابت میں موبائل سکرین پر موجود قرآن کو چھونا یا پڑھنا
سوال
کیا وضو کے بغیر قرآن کو موبائل پر پڑھا جا سکتا ہے؟نیز حالت جنابت میں اس کو چھونا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ قرآن کریم کا ادب واحترام ہر مسلمان پر لازم ہے۔چنانچہ جس طرح قر آن کریم کو ہاتھ لگانے یا اٹھانے کے لیےباطنى طہارت كى رعاىت ضروری ہے اسی طرح باوضوہونابھی ضروری ہے ،چنانچہ بغیر وضو یا جنبی شخص کے لیے قرآن کریم کے مصحف کو بغیر حائل کے ہاتھ لگانا جائز نہیں ،تا ہم اگر بے وضو یا جنبی شخص کسی الگ کپڑے وغیرہ کے ساتھ قرآن کریم کو ہاتھ لگاتا ہے تو شرعاً اس کی گنجائش ہے ۔
صورت مسئولہ کے مطابق موبائل سکرین پر قرانی آیات (سافٹ فائل) کے جو نقوش نظر آتے ہیں ان کی حقیقت یہ ہے کہ اس میں باقاعدہ ایسے حروف موجود نہیں ہوتےجن کے لیے ثبات ودوام یا اپنا کوئی وجود ہو ، بلکہ در حقیقت یہ روشنی کی شعاعیں ہيں جومسلسل سکرین پر پڑتی ہیں اس لیے موبائل میں موجود قرآن کریم مصحف قرآنی کے حکم میں نہیں ۔ چنانچہ اگر آیات قرانی اسکرین پر نظر آرہی ہوں تو بلاوضو یا حالت جنابت میں اس کو ہاتھ لگانا فی نفسہ جائز ہے تاہم کسی شخص کا یہ ادب قابل تحسین ہے کہ وہ قرآن اسکرین پرنظر آنے کی صورت میں موبائل کو بھی بغیر وضویا غسل کے نہ چھوئے ۔نیز جنبی کے لیے قرآنِ کریم کی تلاوت ناجائز ہے، اس سے احتراز لازم ہے ۔
قال اللہ تعالی :﴿لا يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ﴾ (الواقعه:79)
اختلف في {الْمُطَهَّرُونَ} من هم ؟ فقال أنس وسعيد وابن جبير : لا يمس ذلك الكتاب إلا المطهرون من الذنوب ۔ ۔ ۔ قال قتادة وغيره : {لا يَمَسُّهُ إِلاَّ الْمُطَهَّرُونَ} من الأحداث والأنجاس. (الجامع لأحکام القرآن للقرطبی،ج:9،ص:225)
عن حكيم بن حزام قال : لما بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى اليمن قال : لا تمس القرآن إلا وأنت طاهر. (المعجم الكبير لسليمان الطبراني،مسند حكيم بن حزام،ج:3،ص:205،رقم الحديث 3135)
(ومنها) حرمة مس المصحف،لا يجوز لهما وللجنب والمحدث مس المصحف إلا بغلاف متجاف عنه كالخريطة والجلد الغير المشرز لا بما هو متصل به، هو الصحيح. (الفتاوى الهندية،كتاب الطهارة،الباب السادس في الدماء .....،الفصل الرابع في أحكام الحيض و النفاس،ج:1،ص:39)
لو كان المصحف في صندوق فلا بأس للجنب أن يحمله. (رد المحتار على الدر المختار،كتاب الطهارة،باب الحيض،ج:1،ص:293)