بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
قربانی کی قضا
سوال
میراسوال یہ ہے کہ گزشتہ کئی سالوں سے مجھ پر قربانی واجب تھی، لیکن میں اس وقت قربانی ادا نہ کر سکا۔ اب میں اس کی قضا کرنا چاہتا ہوں۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا ہر سال کی واجب قربانی کے بدلے ایک ایک بکری ذبح کرنا لازم ہے، یا پھر اس کی قیمت صدقہ کرنا کافی ہوگا؟
جواب
جو مسلمان مرد یا عورت قربانی کے ایام میں صاحب نصاب ہو، اس پر قربانی واجب ہوتی ہے ۔اگر کسی سال وہ قربانی ادا نہ کر ے، تو یہ معاف نہیں ہوگی، بلکہ اس کی قضا واجب ہے۔اورقضا کی صورت یہ ہے کہ فوت شدہ قربانی کے بدلے ایک متوسط درجے کے بکرے یا بکری کی قیمت کے برابر رقم صدقہ کرے، جو کہ مستحق فقراء کو دی جائے۔یہ بات ذہن نشین رہے کہ فوت شدہ قربانی کی قضا جانور ذبح کر نے سے شرعاً درست نہیں، چاہے قربانی کے ایّام ہوں یا ان کے علاوہ دن۔ قضا صرف صدقہ کی صورت میں ہی ممکن ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں سائل پر ہر سال کی قضا شدہ قربانی کے بدلے ایک متوسط درجے کے بکرے یا بکری کی قیمت کے برابر رقم صدقہ کرنا لازم ہے۔
ثمّ إن كان أوجب شاة بعينها أو اشتراها ليضحي بها فمضت أيّام النّحر قبل أن يذبحها تصدق بها حيّة،ولا ينقص منها شيئا من الشّعر واللّبن،ولا يأكل من لحمها؛لأنّه انتقل الواجب من إراقة الدّم إلى التّصدّق،وإن لم يوجب أو لم يشتر والرجل موسر وقد مضت أيّام النّحر فإن عليه أن يتصدّق بقيمة الشّاة الّتي تجوز في الأضحية لما قلنا.(تحفة الفقهاء،كتاب الأضحية،ج:3،ص:84)
وشمل ما لو كان أحدهم مريدا للأضحية عن عامه وأصحابه عن الماضي تجوز الأضحية عنه ونية أصحابه باطلة،وصاروا متطوعين، وعليهم التصدق بلحمها.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الأضحية،ج:6،ص:326)