بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حالت حیض میں عمرہ کاطواف کرنا


سوال

اگر کوئی عورت حیض کی حالت میں عمرہ کا پورا طواف اور سعی کرلے ،اور وطن لوٹنے سے پہلے پہلے وہ اس کا اعادہ کرلے تو کیا دم ساقط ہوجائے گا یا نہیں ؟نیز صرف طواف کا اعادہ کرنا ہوگا یا باقی افعال عمرہ کی بھی قضا کرنی ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی عورت حیض یا نفاس کی حالت میں عمرہ کا طواف وسعی کرلے اور احرام سے نکل جائے تو جب تک وہ مکہ مکرمہ میں ہو ،پاک ہونے کے بعد صرف طواف کا اعادہ کرے گی باقی افعال ِعمرہ کا اعادہ اس پر نہیں ،اعادہ کی صورت میں اس سے دم ساقط ہوجاتا ہے۔اور اگر پاکی کی حالت میں طواف کا اعادہ نہیں کیا اور اپنے وطن لوٹ گئی تو اس پر دم واجب ہوگا جو حدود حرم میں ذبح کیا جائے گا۔

 

 (أو طاف للقدوم) لوجوبه بالشروع (أو للصدر جنبا) أو حائضا (أو للفرض محدثاولو جنبا فبدنة إن) لم يعده والأصح وجوبها في الجنابة وندبها في الحدث، وأن المعتبر الأول والثاني جابر له، فلا تجب إعادة السعي جوهرة.وفي الفتح: لو طاف للعمرة جنبا أو محدثا فعليه دم، وكذا لو ترك من طوافها شوطا لأنه لا مدخل للصدقة.......قال في البحر: ‌الواجب ‌أحد ‌شيئين ‌إما ‌الشاة أو الإعادة والإعادة هي الأصل ما دام بمكة ليكون الجابر من جنس المجبور، فهي أفضل من الدم. وأما إذا رجع إلى أهله، ففي الحدث اتفقوا على أن بعث الشاة أفضل من الرجوع. وفي الجنابة اختار في الهداية أن الرجوع أفضل لما ذكرنا. واختار في المحيط أن البعث أفضل لمنفعة الفقراء، (رد المحتار على الدر المختار،كتاب الحج،باب الجنايات في الحج،ج:2،ص:550،551)


فتویٰ نمبر : 10527/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور