بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
نماز کے دوران موبائل بند کرنا
سوال
بعض لوگوں کو نماز کے دوران موبائل پر کال آ جاتی ہے، اور وہ نماز کے دوران ہی اسے بند کر دیتے ہیں، اگرچہ وہ موبائل کے سکرین کو نہیں دیکھتے بلکہ جیب میں ہاتھ ڈال کر اسے بند کر دیتے ہیں۔ تو کیا اس سے نماز فاسد ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ نماز کے دوران اگر کوئی ایسا کام کیا جائےکہ دور سے دیکھنے والے کو یقین ہو جائے کہ یہ شخص نماز نہیں پڑھ رہا، تو اُسے عملِ کثیر کہا جاتا ہے، اورعمل کثیرکے ساتھ نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ اورجو کام ایسا نہ ہو، وہ عمل قلیل کہلاتا ہے، عملِ قلیل کے ساتھ نماز فاسد نہیں ہوتی۔چنانچہ نماز کے دوران اگر موبائل کی گھنٹی بجنے لگے اور دونوں ہاتھوں سے موبائل پکڑ کر، یا ایک ہاتھ سے اس انداز میں پکڑ کر اسکرین کو دیکھا جائے کہ دور سے دیکھنے والا یہ سمجھے کہ یہ شخص نماز نہیں پڑھ رہا ، تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ لیکن اگرایک ہاتھ جیب میں ڈال کرگھنٹی بند کر دی جائے، تو اس طرح کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی البتہ اگر ایک رکن میں تین مرتبہ اس طرح کیا تو اس سے بھی نماز فاسد ہوجاتی ہے۔
وقيل: العمل الكثير: هو ما يجزم الناظر إليه أنه ليس في الصلاة قال الصدر الشهيد: هو الصواب، واختاره الفضلي، وأشار المصنف إليه بقوله: وهو المختار۔(المبسوط للسرخسی،کتاب الصلاۃ،باب السترۃ في الصلاة،ج:2،ص:218)
يفسدها "العمل الكثير" لا القليل والفاصل بينهما أن الكثير هو الذي لا يشك الناظر لفاعله أنه ليس في الصلاة۔(مراقي الفلاح،كتاب الصلاة،باب ما يفسد الصلاة،ص:120)
بأن يقال العمل الكثير هو ما لا يشك الناظر إليه أنه ليس في الصلاة أو ما كان بحركات متوالية ۔(البحرالرائق،كتاب الصلاة،باب في الأكل والشرب في الصلاة،ج:2،ص:14)
واختلفوا في القلة والكثرة قال بعضهم كل ما يقام باليدين فهو كثير وما يقام بيد واحدة فهوقليل ما لم يتكرر فعلى هذا القول المصلي إذا ضرب دابته مرة أو مرتين لا تفسد صلاته لأن الضرب يتم بيد واحدة وإن ضربها ثلاث مرات في ركعة واحدة تفسد صلاته ولو كان في صلاة الظهر أو النفل أربع ركعات فضربها في كل ركعة مرة أو مرتين لا تفسد صلاته وإن ضربها ثلاث مرات في ركعة واحدة تفسد صلاته۔( فتاویٰ قاضی خان،كتاب الصلاة،باب ما يفسد الصلاة،ج:1،ص:128)