بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

قربانی کا جانور وزن پرخریدنا


سوال

آج کل بہت سے لوگ قربانی کاجانور وزن کے حساب سے خریدتے ہیں تو کیا  اس طرح خریدنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ زندہ جانور  کا وزن کرتے وقت اس کا صحیح وزن معلوم کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ سانس لینے کی وجہ سے کبھی بھاری ہوتا ہے اور کبھی ہلکا۔ اس وجہ سے یہ موزونات میں داخل نہیں ۔ تاہم اگر عرف میں کسی جانور کی بیع وزن پر  کرنے کا رواج ہو جائے اور سانس کی وجہ سے وزن کی  معمولی  کمی بیشی  نظر انداز کرنے کا معمول ہوجائے جس سے کی وجہ سے یہ بیع مفضی الی النزاع نہ ہو تو پھر اس جانور کی بیع وزن پر کرنا درست ہے۔ جیسا کہ آج کل عرف میں مرغی کی بیع وزن پر کی جاتی ہے، تو عرف کی وجہ سے  یہ جائز ہے، تاہم  جس  عرف میں گائے، بکری، بیل وغیرہ وزن پر فروخت  نہ کئے جائیں ، تو  ایسے جانور کا وزن پر خرید و فروخت کرنا جائز نہ ہوگا، البتہ  اگر وزن کی شرط پر بیع  نہ ہو بلکہ وزن صرف   بطور وصف ہو تاکہ گاہک کو اندازہ لگ سکے تو اس میں  کوئی حرج نہیں۔

 

لأن الحيوان لا يوزن عادة ولا يمكن معرفة ثقله بالوزن لأنه يخفف نفسه مرة بصلابته ويثقل أخرى، بخلاف تلك المسألة لأن الوزن في الحال يعرف قدر الدهن إذا ميز بينه وبين الثجير، ويوزن الثجير.(الهداية،كتاب البيوع،باب الربا،ج:3،ص:63)

وإنما قلنا إن الحيوان ليس بموزون (لأنه لا يوزن عادة) فليس فيه أحد المقدرين الشرعيين الوزن أو الكيل، لأن الحيوان لا يعرف قدر ثقله بالوزن لأنه يثقل نفسه ويخففها فلا يدرى حاله۔(فتح القدير،كتاب البيوع،باب الربا،ج:7،ص:27)


فتویٰ نمبر : 10516/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور