بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
حا لت احرام میں بدن کھجانے کی باعث داڑھی سےکچھ بالوں کا نکلنا
سوال
اگر کوئی شخص حج یا عمرہ کی ادائیگی کے دوران حالتِ احرام میں ہو، اور گرمی یا کسی اور سبب سے اسے خارش کی بیماری لاحق ہو جائے، جس کی وجہ سے وہ بدن کھجا تا ہے اوراس عمل کے دوران داڑھی کے تین سے زائد بال اکھڑ جاتے ہیں،توکیا ایسی صورت میں اس پر فدیہ (دم یا صدقہ) واجب ہوگا یا نہیں؟
جواب
واضح رہےکہ بال اگرمحرم کے فعل کے بغیر خود بخود گرجائیں تو کچھ لازم نہیں ہوتااوراگرمحرم کے اپنے فعل سے گریں،توایسی صورت میں اس کے ذمےصدقہ کرنا واجب ہوگا پھراگرتین بال یا تین بال سے کم گرجائیں،تو ہربال کے بدلے ایک مٹھی گندم صدقہ کر نا ہوگا اور اگرتین یا تین سے زائد بال گرجائیں،توایسی صورت میں نصف صاع یعنی پونے دو کلو گندم یااس کے بقدر پیسے صدقہ کرنا ہو گا۔
صورت مسؤلہ کے مطا بق اگرحالتِ احرام میں کسی محرم کو گرمی یا کسی اورسبب سے خارش ہو جائے اوروہ بدن کھجائےاوراس عمل سےتین بال یا تین بال سے کم گرجائیں،تو ہربال کے بدلے ایک مٹھی گندم صدقہ کر نا ہوگا اور اگرتین یا تین سے زائد بال گرجائیں،توایسی صورت میں نصف صاع یعنی پونے دو کلو گندم یااس کے بقدر پیسے صدقہ کرنا ہو گا۔
لا يخفى أن الشعر إذا سقط بنفسه لا محظور فيه لاحتمال قلعه قبل إحرامه وسقوطه بغير قلعه، وإذا سقط بفعل المُحرم بأن أحسن به وأدركه، فحينئذ يلزمه الجزاء. (المسلك المتقسط في المنسك المتوسط المسمى لباب المناسك، باب الجنایات ،ص167)
وإذا حك المحرم رأسه أو لحيته فانتثر منها شعر فعليه صدقة كذا في السراج الوهاج. (الفتاوى الهندية،كتاب المناسك،الفصل الثالث في حلق الشعر،ج:1،ص: 243)
ولو أخذ شيئا من رأسه أو لحتيه أو لمس شيئا من ذالك فانتثر منه شعرة فعليه صدقة.(غنية الناسك في بغية المناسك،باب الجنايات ،ص: 399)
وإن نتف من رأسه أو انفه أو لحتيه ثلاث شعرات ففي كل شعر كف من طعام ، وفي خصلة نصف صاع ،فتبين أن نصف الصاع إنما هو في الزائد علي الشعرات الثلاث،أما إذا لم يزد تصدق لكل شعرة بكف من طعام ، هذا إذا سقط بفعل محظور الإحرام كالنتف . (غنية الناسک فی بغية المناسک،باب الجنايات ،ص: 399،)