بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
طواف وسعی سے قبل عورت کا بال کاٹنا
سوال
اگر کوئی عورت عمرہ کا احرام باندھنے کے بعد طواف اورسعی مکمل کیے بغیر اپنے سرکے بالوں میں سے کچھ بال کاٹ دے،تو کیا اس پر دم واجب ہو گا؟ اگرہاں، تواس کی مقداراورنوعیت کیا ہو گی؟
جواب
حالتِ احرام میں مرد وعورت دونوں کے لیے بال کاٹنا ممنوع ہے اگر کسی نے احرام کی حالت میں سرکے چوتھائی حصے کے بقدربال کاٹے،تو اس پر دم واجب ہو تا ہے ۔
لہذا صورت مسؤلہ میں اگر عورت نے احرام باندھنے کے بعد طواف وسعی مکمل کیے بغیر اپنے سرکے چوتھائی حصے کے بقدربال کاٹے ہو ں، تواس پردم واجب ہوگا، جو کہ ایک بکری ذبح کرنا ہے،البتہ اگر بال چوتھائی حصےسے کم مقدار میں کاٹے ہوں،تواس پرصدقہ واجب ہوگا، جو نصف صاع یعنی پونےدوکلو گندم یا اس کی قیمت صدقہ کرنا ہے ۔
وإذا حلق ربع رأسه أو ربع لحيته فصاعدا فعليه دم فإن كان أقل من الربع فعليه صدقة. (الهداية،كتاب الحج،باب الجنايات،ج:1ص:436)
ثم واجب الدم يتأدى بالشاة في جميع المواضع إلا في موضعين.( الهداية،كتاب الحج،باب الجنايات،ج:1ص:435)