بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سپنا نام رکھنا


سوال

"سپنا" نام رکھنا کیسا ہے؟

جواب

والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچے کی پیدائش کے بعد اس کے لیے اچھا نام تجویز کریں، نام رکھنے میں نسبت یا معنی کی رعایت رکھنا ضروری ہے۔

صورت مسؤلہ میں لفظ "سپنا"  اردو لفظ ہے جس کا معنی  ہے"خواب" یا " جو کچھ سونے میں نظر آئے "معنی کے اعتبار سے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے،تاہم بہتر یہ ہے کہ صحابیات اور بزرگ ودین دارخواتین کے نام پر بچی کا نام رکھا جائے۔

 

عن أبي الدرداء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنكم تدعون يوم القيامة بأسمائكم، وأسماء آبائكم، فأحسنوا أسماءكم. (سنن أبي داود، باب في تغيير الأسماء، ج:2،ص985)

التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عبادة ولا ذكره رسوله صلى الله عليه وسلم ولا يستعمله المسلمون تكلموا فيه. ( رد المحتار على الدرالمختار،کتاب الحظر والإباحة، فصل في البيع، ج: 6٦، ص: ٤١٧618)

  سپنا (سپ۔ نا )خواب۔ جو کچھ سونے میں نظر آئے۔رویا۔خیال۔وہم ۔جمع سپنوں۔سپنے ۔(فيروز اللغات ،ص:821،ماده:س،پ)


فتویٰ نمبر : 6292/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور