بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

زمین کی وجہ سے قربانی واجب ہونا


سوال

 اگر کسی کے پاس نقد کوئی رقم نہ ہو لیکن اس کی زمین ہو اور وہ بھی بغیر آبادی کے یعنی اس پر کاشت وغیرہ نہ ہو اور وہ زمین اتنی زیادہ ہو کہ اگر وہ بیچے تواس کی قیمت سےنصاب پورا ہوسکتا ہے تو کیا اس بندے پر قربانی واجب ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کسی کے پاس ضرورت سے زائد زمین ہو اور اس کی قیمت نصاب تک پہنچتی ہو تو ایسے شخص پر قربانی واجب ہوتی ہے۔

لہٰذا صورتِ  مسئولہ میں زمین چونکہ ضرورت سے زائد ہے اور اس کی قیمت بھی نصاب تک پہنچتی ہے، اس لیے اس شخص پر قربانی واجب ہے۔

 

(قوله: والیسار) بأن ملك مائتي درهم أو عرضًا یساویها غیر مسکنه و ثیاب اللبس أو متاع یحتاجه إلى أن یذبح الأضحیة و لو له عقار یستغله فقیل: تلزم لو قیمته نصابًا ... فمتى فضل نصاب تلزمه و لو العقار وقفًا، فإن واجب له في أیامھا نصاب تلزم و صاحب الثیاب الأربعة لو ساوی الرابع نصابًا غنی و ثلاثة فلا، والمرأۃ موسرۃ بالمعجل لو الزوج ملیًّا وبالمؤجل لا." (رد المحتار على الدر المختار،  كتاب الأضحية، ج:6، ص:312)

(وأما) (شرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة ... والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها، فأما ما عدا ذلك من سائمة أو رقيق أو خيل أو متاع لتجارة أو غيرها فإنه يعتد به من يساره.

(الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، الباب الأول في تفسير الأضحية وركنها وصفتها وشرائطها وحكمها، 5 / 292)


فتویٰ نمبر : 10513/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور