بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
قربانی میں چاندی کی بجائے سونے کے نصاب کو معیار بنانا
سوال
سونے اورچاندی کے موجودہ نصاب کے درمیان قیمت کے اعتبار سے بہت زیادہ فرق ہے اورچاندی کو معیار نصاب بنانے سے اکثر لوگوں کوقربانی میں شدید حرج کا سامنا ہوتا ہے تو سوال یہ ہے کہ قربانی میں سونے کو نصاب کے لئے معیار کیوں نہیں بنایا جاتا ؟
جواب
جاننا چاہیے کہ اضحیہ اس شخص پر واجب ہے جس کے پاس مقدار نصاب میں سونا یا مقدار نصاب میں چاندی موجود ہو،اوریا نقدی، سامانِ تجارت اور ضرورت سے زائد سامان اتنا موجود ہو کہ اس کی قیمت سونے یا چاندی میں سے کسی ایک نصاب تک پہنچ جائے ،چونکہ نقدی اورمال تجارت کا سونے اور چاندی میں سے ہرایک کے ساتھ مشابہت ہے اسلئے ان میں سے جس کے نصاب تک بھی پہنچ جائے تواس کا مالک صاحب نصاب شمار ہوگا۔آج کل چاندی کی قیمت کم ہونے کی بناء پر نقدی وغیرہ چاندی کے نصاب تک پہلے پہنچ جاتے ہیں اس لیے چاندی کے نصاب کے لحاظ سے ان کاحساب لگایاجاتاہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق سے چاندی کی بجائے سونے کے نصاب کومعیار بنانا درست نہیں،کیونکہ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک بندہ چاندی کے حساب سے صاحب نصاب ہونے کے باوجود اس کو صاحب نصاب قرارنہ دیا جائے اور ظاہر ہے کہ اسے درست نہیں کہا جاسکتا۔
جہاں تک حرج اور تنگی کی بات ہے تو سونا اور چاندی دونوں کی موجودگی میں اگر ایک کا نصاب پورا ہو تو کوئی مشکل پیدا ہونے کا خطرہ نہیں۔ لیکن جہاں کہیں سونا اور چاندی دونوں نصاب سے کم ہوں، لیکن دونوں کی قیمت لگا کر چاندی کا نصاب پورا ہو سکتا ہو۔ تو ایسی صورت میں مشکل پیدا ہونے کاامکان ہے کہ مثلاً ایک شخص کے پاس ایک تولہ سونا کے ساتھ دس روپے موجود ہوں تو دونوں کو ضم کر کے چاندی کا نصاب پورا ہو سکتا ہے لہٰذا پھر ہراس عورت پر قربانی واجب ہوتی ہے جس کے پاس صرف ایک تولہ سونا اوردس روپے پاکستانی ہوں، کیونکہ دونوں کو ملا کر اس سے ساڑھے باون تولہ چاندی خریدی جاسکتی ہے۔ حالانکہ اس کی اتنی قوت خرید نہیں ہوتی کہ وہ قربانی کا جانورخرید سکے فقہ حنفی کی رو سے یہ مشکلات اس وقت پیش آتی ہیں جب امام ابوحنیفہ کے ظاہرالروایہ قول کا اعتبارکرکے نقدین کے ناقص نصاب ہونے کی صورت میں ضم میں قیمت کا اعتبارہو لیکن اس مسئلہ میں اگر صاحبین کی رائے کے مطابق ناقص نصاب کی صورت میں ضم بالقیمت کی بجائے اجزاء کےاعتبار سے ملایاجائےتو پھر اس سے مشکلات پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے نیزیہ امام ابو حنیفہ کا بھی قول ہے۔
متون نے امام ابو حنیفہ کا قول ذکر کر کے مفتی بہ قرار دیا ہے لیکن حالات کے تغیر کی وجہ سے صاحبین کے قول پر فتوی دینے کی گنجائش پائی جاتی ہے جیسے مزارعت میں معاشرتی ضرورت کو مد نظررکھتے ہوئے امام ابو حنیفہ کے قول کے مقابلے میں صاحبین کے مذہب پر فتوی دیا گیا ہے۔ جبکہ یہاں پر اجزاء کے اعتبار سے ضم کے بارے میں امام ابوحنیفہ کا قول بھی موجود ہے۔ لہذا صاحبین کے قول میں وسعت سے استفادہ کرتے ہوئے اس پرفتوی دینا زیادہ مناسب معلوم ہوتاہے۔
ثم اختلف أصحابنا في كيفية الضم فقال أبو حنيفة: يضم أحدهما إلى الآخر باعتبار القيمة، وقال أبو يوسف ومحمد: يضم باعتبار الأجزاء وهورواية عن أبي حنيفة أيضا ذكره في نوادر هشام. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،ج:2،ص:19)
منها الغنى لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «من وجد سعة فليضح»۔۔۔ وهوأن يكون في ملكه مائتا درهم أوعشرون ديناراأوشيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه وما لا يستغني عنه وهو نصاب صدقة الفطر.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،ج:5،ص:64)
وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلا عن حوائجه الأصلية كذا في الاختيار شرح المختار، ولا يعتبر فيه وصف النماء ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية.(الفتاوى الهندية،ج:1،ص:191)