بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
عدد طلاق میں شک پڑنا
سوال
گھروالے ایک لڑکی کے بارے میں اصرار کررہے تھے کہ یہ لڑکی آپ کیلئے کرتے ہیں میں نے اپنے ساتھ الفاظ کہے" اگر میں نے اس کےساتھ نکاح کیا تواس کوطلاق ہو" اب مجھےیہ یاد نہیں کہ ایک طلاق کہا ہے یا تین،جب بھی غورکروں توکچھ بھی مجھے معلوم نہیں ہورہا؟
جواب
واضح رہےکہ جب طلاق کی اضافت نکاح کی طرف ہوجائے تونکاح کرنے کے بعد طلاق واقع ہوگی،اوراگرطلاق کی عدد میں شک ہو اورغور سے سوچنےکے بعد بھی کسی ایک جانب کوترجیح نہ مل رہی ہوتواس صورت میں اقل عدد کا اعتبارہوگا۔
لہذا صورت مسؤلہ میں اگرواقعی سائل کوطلاق کی عدد میں شک ہواور کوئی ایک جانب کو ترجیح نہ ملے، تو جب نکاح ہوجائے تو ایک طلاق بائن واقع ہوگی۔
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا۔(الفتاوی الهندية،کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط،ج:1، ص:420)
ولو شك أطلق واحدة أو أكثر بنى على الأقل ۔۔۔(قوله بنى على الأقل) أي كما ذكره الإسبيجابي، إلا أن يستيقن بالأكثرأو يكون أكبر ظنه۔ (ردالمحتارعلی الدرالمختار، کتاب الطلاق، مطلب الانقلاب والاقتصار والاستناد والتبيين، ج:11، ص:126)