بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
دادی کا پوتے کو پستان دینے سے حرمت رضاعت کا حکم
سوال
ایک لڑکے کو اس کی دادی نے ڈیڑھ سال کی عمر میں کئی مرتبہ پستان دیا تھا،دادی کے کہنے کے مطابق اس وقت پستان سے کچھ مادہ خارج ہوتا تھا، جب کہ اس کی اپنی سب سے چھوٹی بیٹی اس وقت دس سال کی تھی ، اب کیا اس لڑکے کا نکاح اپنی پھوپھی زاد بیٹی کے ساتھ جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کوئی بچہ مدت رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے خواہ کم ہو یا زیادہ تو اس عورت سے رضاعت کارشتہ ثابت ہوجاتا ہے، چنانچہ اس بچے پر دودھ پلانے والی کے اُصول اور فروع سب حرام ہوجاتے ہیں،تاہم محض پستان کو منہ میں دینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی، جب تک دودھ بچے کےپیٹ تک پہنچنےکا غالب گمان نہ ہو۔
صورتِ مسئولہ میں اگر دادی نے اپنےپوتےکے منہ میں کئی مرتبہ پستان دیا تھا،اور اس کے کہنے کے مطابق اس وقت پستان سے کچھ مادہ (دودھ)بھی خارج ہوتا تھا،تو اس صورت میں رضاعت کا رشتہ ثابت ہوجاتا ہے ، اوراس لڑکے پر دودھ پلانے والی (دادی)کے اصول اور فروع سب حرام ہوجاتے ہیں،جس کی وجہ سے اس لڑکےکا نکاح اپنی پھوپھی زادبیٹی سے جائز نہیں کیونکہ وہ اس کی رضاعی بھانجی ہے۔
والأصل فيه قول النبي عليه الصلاة والسلام «يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب».( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الأشربة، كتاب الإستحسان، ج:5، ص:121 )
(فيحرم منه) أي بسببه (ما يحرم من النسب) رواه الشيخان.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، ص:202 )
يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا.( الفتاوى الهندية، كتاب الرضاع، ج:1، ص:343 )
دخل في فم الصبي من الثدي مائع لونه أصفر تثبت حرمة الرضاع لأنه لبن تغير لونه كذا في خزانة المفتين. (الفتاوىٰ الهندية،كتاب الرضاع،ج:1،ص:344 )