بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ایک تولہ سونا اور 10000 روپے نقدی پر قربانی


سوال

اگر کسی عورت کے پاس ایک تولہ سونا اور 0 1000 روپےنقدی ہو تو اس پر قربانی ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی  واجب  ہونے کے لیے نصاب کا مالک ہو نا ضروری ہے۔ اگر کسی کے پاس نصاب سے کم سونااور نصاب سے کم چاندی یا نقدی موجود ہو ،یعنی سونا ساڑھے سات تولہ سے کم ہو اور چاندی ساڑھے باون تولہ سے کم ہو،اسی طرح نقد رقم یا سامان تجارت ساڑھے باون تولہ چاندی  کی قیمت سے کم ہو تو ان کواجزا کے اعتبار سےملایا جائے گا، اگر ان کے باہم ملنے سے  نصاب پورا ہوتا ہو تو قربانی واجب ہو گی ورنہ نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق جس عورت کے پاس ایک تولہ سونا اور 0 1000 روپےنقدی ہو تو چونکہ ان سے نصاب پورا نہیں ہوتا اس لیے اس پر قربانی  واجب نہیں ہے۔

 

وأما شرائط الوجوب منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة ۔ ۔ ۔ والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها۔(الفتاوى الهندية،كتاب الأضحية، الباب الأول،ج:5،ص:336)

ثم اختلف أصحابنا في كيفية الضم،فقال أبو حنيفة:يضم أحدهما إلى الآخر باعتبار القيمة وقال أبو يوسف ومحمد يضم باعتبار الأجزاء  وهو رواية عن أبي حنيفة أيضا.(بدائع الصنائع،كتاب الزكاة،فصل في مقدار الواجب،ج:2، ص:412)


فتویٰ نمبر : 10521/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور