بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
دانوں سے گندا پانی نکلنے سے وضوکا حکم
سوال
دانوں سے گنداپانی نکل جائے تواس سے وضو ٹوٹ جاتی ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر جسم پر دانہ ہو اور اسے ملنے یا دبانے سے پانی نکلے جو اپنی جگہ سے تجاوز کر جائے، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا، لیکن اگر دانہ یا زخم خود بخود پھٹ جائے اور اس میں سے خون، پیپ یا پانی نکل کر اپنی جگہ سے متجاوز ہو جائے تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا، اسی طرح اگر کسی دانے سے خون یا پیپ بار بار تھوڑی مقدار میں ظاہر ہو اور ہر بار اسے کپڑے یا روئی سے صاف کیا جائے، تو بار بار کی یہ مقدار اگر جمع ہو کربہنے کے قابل ہو، تو بھی وضو ٹوٹ جائے گا،ورنہ نہیں۔
وإن قشرت نفطة وسال منها ماء أو صديد أو غيره إن سال عن رأس الجرح نقض وإن لم يسل لا ينقض هذا إذا قشرها فخرج بنفسه أما إذا عصرها فخرج بعصره لا ينقض؛ لأنه مخرج وليس بخارج.(الفتاوی الهندية،کتاب الطهارة،باب في الوضوء،فصل في نواقص الوضوء،ج:1،ص:62)