بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
بنجر زمین کےمالک پرقربانی، صدقہ فطر، اور زکاۃ
سوال
میرا تعلق پاکستان کے علاقہ شمالی وزیرستان سے ہے ہمارے علاقہ میں لوگوں کے پاس کثرت سے بنجر زمین ہوتی ہے کسی کے پاس بیس کنال کسی کے پاس اس سے زیادہ ، اگر قیمت کا اندازہ لگایا جائے تو شرعی نصاب سے بیس گناہ قیمت بنتی ہے ، لیکن وہ زمین زرعی نہیں بلکہ بنجر ہے اور نہ ہی وہ کرایہ کے لئے ہے ،تو سوال یہ ہے کہ ایسی بنجر زمین کی موجودگی میں اس کا مالک صاحب نصاب شمار ہوگا یا نہیں؟ اس پر قربانی و صدقہ فطر اور زکاۃ واجب ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ اگر کسی شخص کے پاس ضرورت سے زائد ویران اور بنجر زمین ہو،تو اس کی قیمت اگر نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی) تک پہنچے تو اس کا مالک صاحب نصاب شمار ہوگا؛ کیونکہ قربانی، اور صدقہ فطر کے وجوب کے لیےدیگر شرائط کے ساتھ صاحب نصاب ہونا بھی ضروری ہے، اور زکاۃ کے وجوب کے لیےان شرائط کے ساتھ اس کامالِ نامی ہونابھی ضروری ہے۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر بنجر زمین ضرورت میں استعمال نہ ہورہی ہو، اور اس کی قیمت نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی) تک پہنچتی ہوتو اس کا مالک صاحب نصاب شمار ہوگا، جس کی وجہ سے اس پر قربانی اورصدقہ فطرادا کرنا واجب ہوگا،لیکن زکاۃ واجب نہ ہوگی ؛کیونکہ زکوٰۃ کے وجوب کی شرائط میں سے ہے کہ وہ چیز مالِ نامی ہو،اور بنجر زمین مالِ نامی نہیں ہے ۔
(ومنها) كون المال ناميا؛ لأن معنى الزكاة وهو النماء لا يحصل إلا من المال النامي، ولسنا نعني به حقيقة النماء؛ لأن ذلك غير معتبر، وإنما نعني به كون المال معدا للاستنماء بالتجارة أو بالإسامة؛ لأن الإسامة سبب لحصول الدر والنسل والسمن، والتجارة سبب لحصول الربح فيقام السبب مقام المسبب.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الزكاة، فصل الشرائط التي ترجع إلى المال، ج:2، ص:11 )
ومنها كون المال فاضلا عن الحاجة الأصلية؛ لأن به يتحقق الغنى ومعنى النعمة وهو التنعم وبه يحصل الأداء عن طيب النفس إذ المال المحتاج إليه حاجة أصلية لا يكون صاحبه غنيا عنه ولا يكون نعمة إذ التنعم لا يحصل بالقدر المحتاج إليه حاجة أصلية؛ لأنه من ضرورات حاجة البقاء وقوام البدن فكان شكره شكر نعمة البدن.( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الزكاة، فصل الشرائط التي ترجع إلى المال، ج:2، ص:11 )
(وأما) (شرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة، والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها.( الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، الباب الأول في تفسير الأضحية وركنها وصفتها وشرائطها وحكمها،ج:5، ص:292 )