بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

والد مرحوم کےايصال ثواب كے ليے قربانی كرنا


سوال

میرے والد صاحب کا انتقال تقریباً چار سال قبل ہوا ہے، اور اُن کی طرف سے کوئی وصیت نہیں کی گئی تھی۔ اب میں اُن کے ایصالِ ثواب کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہوں۔ میری نیت ہے کہ اُن کی طرف سے قربانی کروں، لیکن کچھ لوگ مشورہ دیتے ہیں کہ قربانی کے بجائے وہ رقم صدقہ کر دی جائے تو زیادہ فائدہ ہوگا۔براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ والدِ مرحوم کے لیے قربانی کرنا افضل ہے یا قربانی کی رقم کو  صدقہ کرنا؟ کون سا عمل ان کے حق میں زیادہ ثواب کا باعث بنے گا؟اور کیا میں اس قربانی کے گوشت سے کچھ کھا سکتا ہوں؟

جواب

واضح رہےکہ مردوں کےایصال ثواب کے لیے کوئی بھی نیک عمل کرنا جائز ہے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق عید الاضحی کےایام میں قربانی کرنااوراس کا ثواب مردے کو پہنچانازیادہ افضل ہے،جب کہ باقی ایام میں رقم صدقہ کر نا  اورچونکہ میت نے وصیت نہیں کی تھی ،لہذااس قر بانی کا گوشت سائل خود بھی کھا سکتا ہےاورکسی غریب ومسکین کوبھی کھلا سکتا ہے۔

 

شراء الأضحية بعشرۃ أولیٰ من ان یتصدق بالف لأن القربة التی تحصل بإراقة الدم لاتحصل بالصدقة۔ (خلاصة الفتاویٰ، كتاب الأضحية، ج:4،ص:320 )

‌(قوله ‌وعن ‌ميت) ‌أي ‌لو ‌ضحى ‌عن ‌ميت وارثه بأمره ألزمه بالتصدق بها وعدم الأكل منها، وإن تبرع بها عنه له الأكل لأنه يقع على ملك الذابح والثواب للميت۔(رد المحتار على الدر المختار، كتاب الأضحية، ج:6، ص:335)


فتویٰ نمبر : 10506/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور