بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/11/2026 |
نہری پانی سے سیراب شدہ زمین میں عشر
سوال
ہمارے علاقے میں نہر کے ذریعے کھیتوں کی آب پاشی کی جاتی ہے اور نہر کا آبیانہ ( ٹیکس)حکومت کے نمائندہ کو دیاجاتاہے،جس کی مقدار زمین کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔ہماری زمین جو کہ دس(۱۰)کنال ہے اس کاآبیانہ سالانہ تقریباً۲۱۷۴روپےہے۔توکیا اتنی رقم دینےپراس زمین کے پیداوار میں عشر(دسواں حصہ)لازم ہوگایانصف عشر(بیسواں حصہ)؟
جواب
واضح رہے کہ کھیتوں میں عشر اور نصفِ عشر کا دارومدار زمین کی آب پاشی کے نظام ،یعنی سیرابی کے دوران پیش آنے والی محنت اور اخراجات کی نوعیت پر ہے ۔ اگر کسی زمین کی سیرابی کے لیے پانی کو محنت کرکے یا قیمت دے کر حاصل کیا جاتا ہو ، تو ایسی زمین کی پیداوار میں بیسواں حصہ یعنی نصفِ عشر واجب ہوگا ۔
صورت مسؤلہ میں چونکہ زمین کوجس نہری پانی سے سیراب کیا جاتاہےاگراس کا محصول حکومت کو دیاجاتا ہو،تو اس زمین کی پیداوارمیں نصف عشر(بیسواں حصہ)لازم ہوگا۔
(و) تجب في (مسقي سماء) أي مطر (وسيح) كنهر (بلا شرط نصاب) راجع للكل... (و) يجب (نصفه في مسقي غرب) أي دلو كبير (ودالية) أي دولاب لكثرة المؤنة الخ (قوله: لكثرة المؤنة) علة لوجوب نصف العشر فيما ذكر (قوله: وقواعدنا لا تأباه) كذا نقله الباقاني في شرح الملتقى عن شيخه البهنسي؛ لأن العلة في العدول عن العشر إلى نصفه في مستقى غرب ودالية هي زيادة الكلفة كما علمت وهي موجودة في شراء الماء ولعلهم لم يذكروا ذلك؛ لأن المعتمد عندنا أن شراء الشرب لا يصح وقيل إن تعارفوه صح وهل يقال عدم شرائه يوجب عدم اعتباره أم لا تأمل نعم لو كان محرزا بإناء فإنه يملك فلو اشترى ماء بالقرب أو في حوض ينبغي أن يقال: بنصف العشر؛ لأن كلفته ربما تزيد على السقي بغرب أو دالية.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الزكاة،باب العشر،مطلب مهم في حكم أراضي مصر والشام السلطانية،ج:3،ص:268)