بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

صاحب استطاعت شخص کی طرف سےقربانی کرنا


سوال

میں یورپ کے ایک ہسپتال میں ڈاکٹرہوں،اورمیرا بڑا بھائی دبی میں کاروبارکررہا ہے ہمارا نفع مشترک ہےجب قربانی کا موقع آتاہےتومیں اپنے بڑے بھائی سے کہتاہوں کہ میں صاحب نصاب ہوں اورمجھ پرقربانی واجب ہے لہذا میں پاکستان پشاور پیسے بیج دیتاہوں،تاکہ والد صاحب میری  قربانی میرے ہی پیسوں سے  کرے لیکن میرابڑا بھائی مجھے کہتاہے کہ پیسے جمع کرتے رہواورایک بڑاجانورخرید کرہم اس میں آپ کے لیےایک حصہ رکھ لیں گے، کیا اس طرح سے میری واجب قربانی ادا ہوجائےگی جبکہ میں صاحب استطاعت ہوں؟

جواب

جس شخص پرقربانی واجب ہو،تواگروہ اپنے پیسوں سے قربانی کا جانورخرید لے یا کوئی دوسرا اس کی اجازت سےاپنے پیسوں سے اس کے لیے جانورخرید کر اس کی جانب سے قربانی کرے تو شرعاً اس سے واجب قربانی ادا ہوجائےگی۔

صورت مسؤ لہ کے مطابق اگر سائل کاوالد یابڑابھائی سائل کی اجازت سےاس کی جانب سے واجب قربانی ادا کرےتواس سے سائل کا ذمہ فارغ ہوجائے گا۔

 

وإن كانوا كبارا إن فعل بأمرهم جازعن الكل في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى، وإن فعل بغير أمرهم أو بغيرأمربعضهم لا تجوزعنه ولاعنهم في قولهم جميعا؛لأن نصيب من لم يأمرصارلحما فصارالكل لحما.( الفتاوى الهندية،كتاب الأضحية،الباب السابع في التضحيية عن الغير،ج:5،ص:302)

ومنها أنه تجري فيها النيابة فيجوز للإنسان أن يضحي بنفسه أو بغيره بإذنه؛ لأنها قربة تتعلق بالمال فتجري فيها النيابة.(الفتاوی الهندية،كتاب الأضحية،الباب الثاني في وجوب التضحية،ج:5،ص:294)


فتویٰ نمبر : 10531/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور