بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
جب بھی پیسے ہوجائیں تو دے دینا
سوال
ایک دوست نے دوسرے دوست سے کہا: "یہ گھڑی تم لے لو، جب پیسے ہو جائیں دے دینا۔"کیا یہ بیع مؤجل (بیع معلقہ) ہے یا قرض؟ شرعاً اس طرح بیع کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب
جاننا چاہیے کہ بیع جس طرح نقد رقم کےساتھ منعقد ہوسکتی ہے اسی طرح ادھاررقم کےساتھ بھی بیع منعقد ہوسکتی ہےالبتہ ادھارکی صورت میں رقم کی حوالگی کادن معلوم ہونا ضروری ہے۔
صورت مسؤلہ کی روسے جب بائع نےیہ کہہ دیا کہ" جب بھی پیسے ہوجائیں تودےدینا" تویہ ادھاربیع ہےاوراس میں ادائیگی کی مدت مقررنہیں کی گئی ہےاس لیے یہ بیع شرعاً جائزنہیں ۔
(وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب البیوع،مطلب في الفرق بین الأثمان والمبیعات،ج:4،ص:531)
(قوله: لا يجوز البيع إلى هذه الآجال) أي لجهالة الأجل...واعلم أن كون التأجيل في الثمن يصح إذا كان الأجل معلوما.(تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق،باب البیع الفاسد،ج:4،ص:59)