بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/08/2026 |
منگنی کے بعد صرف پیسے تقسیم کر نا
سوال
اگر منگنی کے وقت لڑکے کے اہلِ خانہ لڑکی کے اہلِ خانہ کو کچھ رقم بطور تحفہ یا نشانی دے دیں، مگر اس موقع پر شرعی نکاح نہ پڑھا یاجائے، نہ مہر طے کیا جائے، نہ ایجاب و قبول شرعی طریقے سے گواہوں کی موجودگی میں ہو، تو کیا محض اس مالی لین دین اور رسمِ منگنی کی بنیاد پر لڑکی کو شرعی طور پر منکوحہ شمار کیا جائے گا؟
جواب
واضح رہے کہ منگنی کی حیثیت وعدہ نکاح کی ہوتی ہے ۔
لہذا صورت مسؤلہ کے مطابق اگر منگنی کی تقریب میں صرف پیسے یا تحائف دیے جائیں، اور مہر کی تعیین نہ ہو، اور نہ ہی شرعی ایجاب و قبول ہو، اور نہ شرعی گواہ موجود ہوں ،تو نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ ایسے میں لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہی رہیں گے اوران پر میاں بیوی کے احکام لاگو نہیں ہونگے۔
قال في شرح الطحاوي: لو قال هل أعطيتنيها فقال أعطيت إن كان المجلس للوعد فوعد، وإن كان للعقد فنكاح. ـ. فقولہ: وینعقد أی النکاح أی یثبت ویحصل بالإیجاب والقبول .ثم قال : قولہ:( شرط حضور شاھدین) أی یشھدان علی العقد.(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب النكاح ،ج:3 ص: 87)
وأما رکنہ :فالإیجاب والقبول کذا فی الکافی .وقال أیضا:ینعقد بالإیجاب والقبول .(الفتاوی الھندية،كتاب النكاح،ج:1ص:298)