بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مطاف میں نفلی طواف کےلیےاحرام باندھنا


سوال

بیت اللہ کی طواف گاہ میں سعودی حکومت کی جانب سے صرف عمرہ کرنےوالوں کےلیے طواف کی اجازت ہوتی ہےاوراس کےلیےوہ صرف احرام والے حضرات کوطواف گاہ میں طواف کرنے کی اجازت دیتےہیں،اورنفلی طواف کرنے والوں کوحرم کی دوسری فلورمیں طواف کرنے کا حکم ہوتا ہے،اب سوال یہ ہے کہ بعض حضرات اپنےآپ کو معتمرین دکھانے کی خاطراحرام باندھ کرطواف گاہ میں نفلی طواف کرتے ہیں شرعا ان کایہ عمل دھوکہ دہی شمارہوتا ہے کہ نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ حکومت کاحکم جب شریعت کے خلاف نہ ہوتواس کا ماننا ضروری ہوتاہے۔

صورت مسؤلہ کی روسے جب سعودی حکومت نے طواف گاہ میں صرف عمرہ کرنے والوں کوطواف کی اجازت دی ہےتاکہ زیادہ بھیڑ نہ رہے تو اس حکم کا مانناضروری ہے اوراس کی خلاف کرنے کی شرعا اجازت نہیں نیزعمرہ کی نیت کیے بغیرمحض اپنےآپ کو معتمر دکھانے کے لیےاحرام باندھنا ایک طرح سے دھوکہ دہی بھی ہےجو کہ شرعا جائزنہیں،اس لیے اس عمل سےاحترازکرناچاہیے۔

 

قال اللہ تبارک وتعالی: ﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَوۡفُواْ بِٱلۡعُقُودِۚ ﴾ [المائدة: 1]

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يطبع المؤمن على كل خلة خلا الخيانة والكذب»(مسند الشهاب، يطبع المومن علی کل خلق لیس الخیانۃ والکذب، رقم الحدیث:589، ج:1، ص:344)

صاحب البحر ذكرناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غيرمعصية واجبة.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب القضاء،مطلب طاعۃ الإمام واجبۃ،ج:5،ص:422)


فتویٰ نمبر : 10495/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور