بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
قربانی میں سستا حصہ ڈالنا
سوال
ہمارے علاقے میں بعض ادارے اجتماعی قربانیاں کرتے ہیں اس میں ایک حصے کی خاص قیمت ہوتی ہے لیکن اگر کوئی سستا حصہ لیتا ہے جوایک حصہ کا نصف ہوتاہے تواس کے لیے بھی قربانی کردیتے ہیں مثال کے طور پراگرایک مکمل حصہ تیس ہزار کا ہےتواگرکوئی پندرہ ہزاربھی دے دے تواس کو بھی قربانی میں شریک کرتے ہیں پھراسی حساب سے گوشت بھی ان شرکاءمیں تقسیم کردیتے ہیں جس کا حصہ پوراہوتواس کو پورے حصہ کاگوشت ملتا ہےاور جس کا آدھا ہوتواسےادھے حصے کا گوشت ملتا ہےشرعااس سستے اورآدھے حصے کی قربانی سے کیا واجب قربانی ادا ہوتی ہے؟
جواب
جانناچا ہیے کہ بڑے جانوریعنی گائے،بھینس اوراونٹ میں سات بندوں تک شریک ہوسکتے ہیں،اگرقربانی جس میں سات سے زیادہ بندے ایک بڑے جانور میں شریک ہوں،تو شرعا اس کی گنجائش نہیں،اورسب کی قربانی جائز نہ ہوگی۔
صورت مسؤلہ میں اجتماعی قربانی میں آدھا سستا اگر1/7 حصے سے کم ہوتو شرعاًاس سے قربانی ادا نہ ہوگی اورنتیجتاً اس طرح کے جانورمیں شریک سب شرکاء کی قربانی درست نہ ہوگی۔
ويذبح عن كل واحد منهم شاة أو يذبح بقرة أو بدنة عن سبعة" والقياس أن لا تجوز إلا عن واحد، لأن الإراقة واحدة وهي القربة، إلا أنا تركناه بالأثروهوما روي عن جابر رضي الله عنه أنه قال: "نحرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم البقرة عن سبعة والبدنة عن سبعة".ولا نص في الشاة، فبقي على أصل القياس. (الهداية في شرح بداية المبتدي،كتاب الأضحية،ج:4،ص:356)
(أو سبع بدنة) هي الإبل والبقر؛ سميت به لضخامتها، ولو لأحدهم أقل من سبع لم يجز عن أحد.(ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الأضحیة،ج:6،ص:316)