بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

مفت پانی سے فصل سیراب کرنے میں عشر


سوال

جس فصل کو حکومت کی طرف سے ملنے والے مفت پانی سے سیراب کیا جاتا ہے، کیا اس میں عشر واجب ہوتا ہے یا نصف عشر؟

جواب

واضح رہے کہ فصل میں عشر یا نصف عشر کا مدار اس بات پر ہے کہ زمین کی سیرابی کس ذریعے سے کی گئی ہے۔ اگر زمین کی سیرابی ایسے  پانی سے کی گئی ہو، جس میں کوئی خرچ و مشقت نہ ہو تو اس صورت میں عشر ادا کرنا ہوگا۔ اور اگر آلات، مثلاً ٹیوب ویل یا دیگر ذرائع سے   خرچ یا مشقت سے پانی حاصل کرکے زمین کو سیراب کیا گیا ہو، تو اس صورت میں نصف عشر واجب ہوگا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں حکومت کی طرف سے ملنے والےمفت پانی سے فصل سیراب کرنے کی صورت میں عشرواجب ہوگا۔

 

‌عن سالم بن عبدالله عن أبيه عن النبيﷺ قال: فيما ‌سقت ‌السماء ‌والعيون أو كان عثرياالعشر، وفيما سقي بالنضج نصف العشر۔(صحيح البخاري،باب العشر فيما يسقي من ماءالسماء،ج:2 ،ص:126،رقم الحديث:1483)

وما سقي بغرب أو دالية ففيه نصف العشر۔( رد المحتار على الدرالمختار،باب العشر،ج:2،ص:325)


فتویٰ نمبر : 10490/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور