بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
سركارى سکول میں لگے درختوں كا استعمال
سوال
سرکاری سکولوں میں لگائے درخت حکومت اپنے خرچے سے درخت لگاتی ہے،بعض دفعہ غیر متولی حضرات بھی اپنے خرچ سے درخت لگاتے ہیں۔،اب پتا نہیں کہ ان غیر متولی حضرات کی نیت درخت لگانے کے وقت کیا ہوتی ہے،اپنے لئے لگاتے ہیں یا اساتذہ و طلباء کے لیے لگاتے ہیں یا سکول (وقف) کے لیے لگاتے ہیں یا خالی نیت سے درخت لگاتے ہیں،نیز جو غیر متولی حضرات درخت لگاتے ہیں وہ آخر تک اپنے لگائے ہوئے درختوں کی نگرانی نہیں کر سکتے کیونکہ طلباء عموما فارغ التحصیل ہو جاتے ہیں اور اساتذہ منتقل ، ریٹائرڈ یا فوت ہو جاتے ہیں۔ اساتذہ کبھی کبھار سرکاری سکول (وقف) میں اپنے پیسوں سے چیزیں منگوا کر سکول میں لگے درختوں کی لکڑیاں جلا کر اپنا کھانا پکواتے ہیں۔ 1۔ سرکاری سکولوں میں لگائے گئے درختوں کی لکڑیاں اساتذہ اپنا کھاناپکانے کے لیے جلا سکتے ہیں یا نہیں اور اس کھانا کھانے کا کیا حکم ہے؟ 2۔ الف۔ اگر سرکاری سکولوں میں بغیر اجازت کے لکڑیاں استعمال کرنا درست نہیں تو کیا ان لکڑیوں کا پھر ضمان دینا پڑے گا ، نیز اگر کسی کو کھانا کھانے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ان لکڑیوں سے پکایا گیا ہے تو کیا اسے بھی ضمان دینا پڑے گا،مطلب اس معاملے میں کس کس کے ذمہ ضمان دینا لازم ہے؟ ب۔ نیز ضمان پھر کس تناسب سے دینا پڑے گا ؟ فرض کریں 50 اساتذہ کے لیے کھانا تیار کیا گیا تو اس میں سے ایک شخص پر 1/50 ضمان آئے گا؟ نیز بازار میں عام لکڑیوں کی قیمت کا حساب کیا جائے گا؟ پھر جتنی دفعہ کھانا کھایا ہے تو اس سے مندرجہ بالا قیمت کو ضرب دے کر مکمل ضمان کی قیمت معلوم کی جائے گی ؟ اگر کسی کو یاد نہ ہو کہ میں نے پچھلے ساڑھے تین سالوں میں سرکاری سکول کے لکڑیوں سے پکا کھانا کتنی دفعہ کھایا ہے نیز ہر دفعہ کتنے آدمیوں کے لیے کھانا پکتا تھا اور ہر دفعہ کتنی لکڑیاں جلاتے تھے تو یہ شخص ضمان کی قیمت کیسے معلوم کرے گا؟ 3۔ اگر کسی نے سرکاری سکولوں میں بغیر اجازت کے لکڑیاں استعمال کر لیں تو پھر یہ ضمان کسے دینا پڑے گا؟ اور کس طریقے سے یہ ضمان ادا کیا جائے گا اور یہ شخص اب سرکاری سکول میں ان لکڑیوں کی ضمان کس مد میں جمع کرائے گااور اگر کوئی شخص ضمان کی قیمت کے برابر پیسوں سے سکول کے لیے کوئی چیز خرید لے تو کیا ضمان ادا ہو جائے گا؟
جواب
واضح رہے کہ سرکاری املاک پوری قوم کا سرمایہ ہے،اسمیں خیانت پوری قوم سے خیانت ہے،اس لئے سرکاری املاک میں سرکاری شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہےاورسرکاری قواعدو ضوابط اور اتھارٹی کی اجازت کے بغیرکسی قسم کا تصرف جائز نہیں ۔
صورت مسؤلہ میں اسکول کے اندرموجود درخت سکول ہی کی ملکیت متصور ہوگی کیونکہ اگر کسی نے انفرادی طور پرلگائے ہوں تب بھی عرف یہی ہےکہ لگانے والا سکول ہی کے لئے لگاتا ہےاپنی ذات کے لئے نہیں،اس لئے تمام درخت سکول ہی کے متصور ہوں گے، البتہ اگرزائد خشک ٹہنیاں یا لکڑیاں زمین پر گری ہوئی ہوں تو دلالتاً ان کے استعمال کی اجازت ہوتی ہے، اس لئے ان کے استعمال پر کوئی ضمان نہیں آئے گا اورجن حضرات نے بلا اجازت درختوں کو کاٹ کر جلایا ہو، ان پر لازم ہے کہ وہ ان درختوں کی موجودہ مارکیٹ قیمت کے مطابق اندازہ لگائیں اور وہ رقم سکول میں جمع کردیں،اگر سکول انتظامیہ اجازت دے تو وہ رقم سکول کی دیگرضروریات میں بھی استعمال کی جا سکتی ہےاورجو کھانا ان درختوں سے لکڑی کاٹ کر پکایا گیا ہو، اس کا کھانا جائز ہے، لیکن لکڑی کے ناجائز استعمال کا گناہ برقرار رہے گا، جس سے خلاصی کی صورت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار کی جائے اور استعمال شدہ لکڑیوں کی قیمت سکول میں جمع کی جائے۔
جن افراد نے ان درختوں کوبلا اجازت کاٹ کر استعمال کیا ہے ،ان پر لازم ہے کہ تمام استعمال شدہ لکڑیوں کی مجموعی قیمت معلوم کی جائے اور پھر استعمال کی مقدار کے مطابق ہر ایک پراس کا حصہ تناسب کے لحاظ سے تقسیم کیا جائے۔
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيها الناس! إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا. وإن الله أمر المؤمنين بما أمر به المرسلين. فقال الله تبارك وتعالى:﴿يَاأَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ ﴾ وقال تعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ﴾۔ثم ذكر الرجل يطيل السفر. أشعث أغبر. يمد يديه إلى السماء. يا رب! يا رب! ومطعمه حرام، ومشربه حرام، وملبسه حرام، وغذي بالحرام. فأنى يستجاب لذلك؟(صحيح مسلم،كتاب الزكاة،ج٤،ص:٢٧٩٦،دار الفكر )
الأشجار النابتة بلا غرس في ملك أحد هي ملكه ليس لآخر أن يحتطب منها إلا بإذنه فإن يفعل يكن ضامناً.(شرح المجلة لسليم رستم باز،المادة:١٢٤٤،ج:٤،ص:١٨٢)
والسبيل في المعاصي ردها وذلك هاهنا برد المأخوذ إن تمكن من رده بأن عرف صاحبه وبالتصدق به إن لم يعرفه ليصل إليه نفع ماله إن كان لا يصل إليه عين ماله أما إذا لم يكن الأخذ على شرط لم يكن الأخذ معصية والدفع حصل من المالك برضاه فيكون له ويكون حلالا له۔ (الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،ج:٥،ص:٣٤٩)
والحطب في ملك رجل ليس لأحد أن يحتطبه بغير إذنه، وإن كان غير ملك فلا بأس به.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب احياء الموات،ج:٦،ص:٤٤٠)