بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بیوی کا شوہر کو اپنا سونا ہدیہ کرنے كے بعد اس پر قربانی کا حكم


سوال

ایک عورت نے اپنے شوہر کو اپنا سونا دے کر یہ کہہ دیا اس پر اپنے  لیے کچھ کا روبار شروع کردے ، شوہر نے سونا بیچ کر اس سے کراکری کی  دکان لگادی ،عورت کا کہنا ہے کہ میں اس سے دوبارہ اپنا سونا نہیں مانگتی، کاروبار کے منافع اب  نصاب سے بڑھ گئے ہیں ،تو اس صورت حال میں قربانی کس پر واجب ہوگی بیوی پر یا شوہر پر یا دونوں پر؟

جواب

واضح رہے کہ قربانی ہر اس مسلمان مرد و عورت  پر واجب ہے جو بقر عید کے موقع پر اتنے مال کا مالک ہو جو نصاب تک پہنچتا ہو، اگر کسی کے ساتھ مال تھا لیکن اس نے عید آنے سے پہلے اس  کو صدقہ کیا یا کسی کو ہدیہ کیا اور عید کے موقع پر اس کے ساتھ اتنی رقم نہیں تھی  جو نصاب تک پہنچتی ہو، تو اس پر قربانی واجب نہیں ہے ۔

صورت مسئولہ میں اگر واقعی اس عورت نے   شوہر کو اپنا سونا  یہ کہہ کر دیا  ہو کہ:  اس پر اپنے لیے کاروبار شروع کرے ،اور ساتھ یہ بھی کہا ہو کہ میں دوبارہ یہ سونا نہیں مانگوں گی تو یہ بیوی کی طرف سے شوہر کو ہدیہ شمار ہوگا،  اور اس سے حاصل شدہ منافع اور کاروبار سب شوہر کی ملکیت ہو گی ۔ لہذا  اگر کاروبار کے منافع نصاب تک پہنچ چکے ہوں، تو شوہر پر قربانی واجب  ہے ، اور بیوی کے ساتھ اگر اس کے علاوہ اتنا مال نہ ہو جس سے  وہ  نصاب  کی  مالکہ بن جائے تو اس پر قربانی نہیں ہے ۔

 

(وأما) (شرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة.(الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية ج:5، ص:336)

ومنها الغنى لما روي عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: «من وجد سعة فليضح» شرط عليه الصلاة والسلام السعة وهي الغنى ولأنا أوجبناها بمطلق المال ومن الجائز أن يستغرق الواجب جميع ماله فيؤدي إلى الحرج فلا بد من اعتبار الغنى وهو أن يكون في ملكه مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء تبلغ قيمته ذلك سوى مسكنه وما يتأثث به وكسوته وخادمه وفرسه وسلاحه وما لا يستغني عنه وهو نصاب صدقة الفطر، وقد ذكرناه وما يتصل به من المسائل في صدقة الفطر.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع،كتاب التضحية،فصل في شرائط وجوب التضحية،ج:6،ص:283)


فتویٰ نمبر : 10487/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور