بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
دوتولے سونا اور کرایہ کے گھرپر وجوب قربانی
سوال
اگر کسی شخص کے پاس دو مکانات ہوں ایک میں وہ خود رہائش پذیر ہو اور دوسرا کرایہ پر دیا ہو، جس کا کرایہ اس کے روزمرہ اخراجات میں مکمل خرچ ہو جاتا ہو۔ اس کے پاس دو تولہ سونا بھی ہو،لیکن اس پرچارلاکھ روپے قرض بھی ہو، اور نقدکوئی رقم موجود نہ ہو،توکیا ایسی صورت میں اس پرقربانی واجب ہوگی یا نہیں؟
جواب
قربانی ہراس مسلمان (مرد یا عورت )پر واجب ہوتی ہے جو عاقل، بالغ اور مقیم ہواوراس کی ملکیت میں قربانی کےایام میں ساڑھےسات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا چاندی کے نصاب کے بقدرنقدی یا سامان تجارت یاایسا مال موجود ہوجواس کی حاجات اصلیہ سے زائد ہو۔
صورت مسؤلہ کے مطابق اگرکسی شخص کے پاس صرف دو تولہ سونا ہو اوراس کے ساتھ اورکوئی نقد رقم نہ ہو،اوراس کے ذمے لوگوں کا چارلاکھ قرض بھی ہو،توایسی صورت میں قربانی واجب نہیں ہو گی۔
(وأماشرائط الوجوب)منها اليساروهوما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة....والموسرفي ظاهرالرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها۔(الفتاوى الهندية،كتاب الأضحية،الباب الأول،ج:5،ص:292)
أما الأول فكمال النصاب شرط وجوب الزكاة فلا تجب الزكاة فيما دون النصاب؛ لأنها لا تجب إلا على الغني والغنى لا يحصل إلا بالمال الفاضل عن الحاجة الأصلية۔"(بدائع الصنائع ، كتاب الزكوة، فصل في بيان الشرائط التي ترجع الي المال،ج:2، ص:404)