بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

ری سائیکل پانی کےاستعمال کا حکم


سوال

میں ایک کمپنی میں ملازم ہوں کمپنی میں ری سائیکل پانی  آتاہےجو کہ واشروم سے آتاہے اور ہم اس کو استعمال بھی کرتے ہیں بسا اوقات یہ پانی ہمارے کپڑوں اور جسم پر بھی لگتی ہے اس صورت اگر ہم اس پانی سے غسل کریں  یا وضو کریں  تو کیا نمازپڑھنا درست ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ روئے زمین پر پانی اللہ تعا لیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جو تمام زندہ مخلوقات  ،انسان ،حیوان ، چرند،پرند ،کی حیات کے لئے لازمی اور ضروری ہے۔ لیکن آج کل بڑھتی ہوئی آبادی  کی وجہ سے پانی کا استعمال دن بدن زیادہ ہوتا جارہاہے،چونکہ اس زمین پر میٹھے پانی کی مقدارکم ہے،اس لئے یہ کوشش کی جارہی ہے کہ استعمال شدہ پانی کو دوبارہ تحلیل ،وتطہیر کے عمل سے گزار  کر استعمال کے قابل بنایا جائے۔جب پانی فلٹر کے ذریعے پاک کیا جائے  اس سے جراثیم وغیرہ علیحدہ ہوکر خالص پانی رہ جائے اور اس کے تینوں اوصاف(رنگ،بو،ذائقہ)  پاک پانی جیسے ہو جائیں تو اس کا حکم بھی بدل جائےگا،جیسا کہ کثیر مقدار میں پاک پانی کی نجاست  کا حکم اوصاف کے بدلنے سے لگایاجاتاہے۔اسی طرح کثیر مقدار میں  نجس پانی کی پاکی بھی اوصاف کے بدلنے سے ہو سکتی ہے۔

لہذافلٹر شدہ پانی کے اوصاف ثلاثہ(رنگ،بو،ذائقہ)اگر عام پاک پانی جیسےہوں تواس پانی سے غسل یا وضو کرکے نماز پڑھنا جا ئزہے ،تاہم جہاں کہیں پانی وافرمقدار میں موجود ہو،تو وہاں پر اس قسم کا فلٹر شدہ پانی پینے اور طہارت کے لئے استعمال نہ کرنا ہی احتیاط ہے ؛کیونکہ اس کے استعمال میں  طبعی کراہت بہر حال ہوتی ہے۔اور جہاں پر پانی کی قلت کی شکایت ہو،وہاں طہارت یاپینے کے لیےاستعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

 

عن أبي سعيدٍ الخدري قال:قيل يارسول الله،أنتوضأ من بئر بضاعة،وهي بئر يلقى فيها الحيض ولحوم الكلاب والنتن؟،فقال رسول اللهﷺ :(إن الماء طهورلاينجسه شيئ)۔۔۔"ألماء طهور لاينجسه شيئ"كما زعمتم و أغير في التعبير شيئا مع إبقاء المراد، أي ألماء طھورلايبقى نجسا أبدا بحيث لايكون لطھارته سبيل،فإن هذالتعبير أقرب إلى لفظ الحديث،(العرف الشذی شرح سنن الترمذی ،ابواب الطھارۃ عن رسول اللہﷺ،باب ماجاء الماء طھور لاینجسه شئ،ج:1،ص:19)


فتویٰ نمبر : 10485/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور