بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
سات آدمیوں کی قربانی میں ایک کا صدقے کی نیت کرنا
سوال
ایک شخص نے چھ بندوں کو ملا کر گائے کی قربانی کی، مگر ان میں سے ایک نے بعد میں بتایا کہ اس کی نیت صدقے کی تھی،قربانی کی نہیں کیا سب کی قربانی فاسد ہوگئ یا باقی چھ افراد کی قبول ہے؟
جواب
واضح رہے کہ قربانی میں تقرب الی اللہ کی نیت کرنا ضروری ہے چاہے وہ واجب قربانی کی صورت میں ہو یا صدقہ کی صورت میں یا،دم تمتع،دم قران یا عقیقہ کی صورت میں بہرحال یہ سب نیتیں کرنا جائزہیں،اوراس سے شرکاء کی واجب قربانی پر اثر نہیں پڑتا، تاہم ان میں سے اگرکسی ایک کا مقصد صرف گوشت کا حصول ہو تو اس سے باقی سب کی قربانی فاسد ہو گی ۔
صورت مسؤلہ کے مطابق تمام شرکاءمیں سے ایک کی طرف سےصدقہ کی نیت کرنے سےباقی چھ افراد کی قربانی پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔
ولو أرادوا القربة۔الأضحيّةأو غيرها من القرب۔أجزأهم،سواء كانت القربة واجبةٓ أو تطوعا،أو وجب علی البعض دون البعض،وسواء اتفقت جھات القربة أو اختلفت،بأن أراد بعضھم الأضحيّة وبعضھم جزاءالصيد،وبعضهم هدي الإحصار، وبعضھم كفارة عن شيئ أصابه في إحرامه،وبعضھم هدي التطوع، وبعضھم دم المتعة أوالقران،(الفتاوى الھندية،كتاب الأضحيّة، الباب الثامن،ج:5،ص:351)