بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
غیر مؤثر شرط کے ساتھ کی گئی بیع کا حکم
سوال
زمین کو خریدتے وقت بائع نے کہا تھا کہ: "میں یہ زمین اس شرط پر بیچتا ہوں کہ تم اس پر مسجد نہیں بناؤ گے۔" خریدار نے اس شرط کو قبول کیا، لیکن بعد میں اس زمین پر مسجد بنا دی۔ تو ایسی شرط کے ساتھ بیع کا کیا حکم ہے؟ اور خریدار کا اس شرط کی خلاف ورزی کرنا کیسا ہے؟
جواب
واضح رہے کہ جب بیع میں کوئی ایسی شرط لگائی جائے جس میں بائع یا مشتری یا مبیع کا فائدہ ہو،اوروہ شرط مقتضائے عقد کے خلاف ہو، تو اس سے بیع فاسد ہو جاتی ہے۔ اور بیعِ فاسد کو فسخ کرنا بائع اور مشتری دونوں پر لازم ہوتا ہے۔لیکن اگر ایسی شرط لگائی جائے جو مقتضاءعقد کے خلاف ہو لیکن اس میں متعاقدین یامبیع (جواہل استحقاق میں سے ہو) کا فائدہ نہ ہو تو اس سے عقد فاسدنہ ہوگابلکہ شرط باطل ، لغواورغیرمؤثرہوکر عقد صحیح کہلائےگا۔
صورتِ مسئولہ میں، بائع کی یہ شرط کہ "تم اس زمین پر مسجد نہیں بناؤ گے" اگرچہ عقد کے مقتضیات کے خلاف ہے، لیکن چونکہ اس شرط میں بائع یا خریدار کا کوئی فائدہ شامل نہیں ہے، اس لیے یہ شرط باطل ،لغو اورغیرمؤثرجبکہ بیع جائز ہے۔خریدار پر اس شرط کو پورا کرنا لازم نہیں، اور چونکہ زمین اس کی ملکیت میں آ چکی ہے، اس لیے اس پر مسجد بنانا شرعاً جائز اور درست ہے۔
(وكذا) يصح (بشرط لا يقتضيه العقد ولا نفع فيه لأحد) من المتعاقدين والمبيع المستحق للنفع بأن يكون آدميا (كشرط أن لا يبيع الدابة المبيعة) بأن قال بعت هذه الدابة منك على أن لا تبيعها أو تسيبها في المرعى لأن هذا الشرط لا يؤدي إلى النزاع ولا يحتمل الربا لعدم النفع الزائد فيصح العقد ويبطل الشرط وهو الظاهر من المذهب وعن أبي يوسف أنه يفسد البيع قيل: هذا مثال لعدم النفع للعاقدين مع منفعته للمعقود عليها لكن ليست من أهل الاستحقاق۔(مجمع الأنهر في ملتقى الأبهر،كتاب البيوع،باب بيع فاسد،ج:2،ص:62)
ولو باع جارية على أن لا يطأها المشتري: ذكر ذلك في الاختلاف بين أبي يوسف ومحمد رحمهما الله اختلافا ولم يذكر قول أبي حنيفة عليه الرحمة فقال: البيع فاسد والشرط باطل عند أبي يوسف.وعند محمد البيع جائز والشرط باطل ولو باع بشرط أن يطأها جاز البيع والشرط في قولهم جميعا.وروي عن أبي حنيفة رحمه الله أن البيع فاسد في الموضعين جميعا.يطأها جاز البيع والشرط في قولهم جميعا.وروي عن أبي حنيفة رحمه الله أن البيع فاسد في الموضعين جميعا.(وجه) قول محمد أن هذا شرط لا منفعة فيه لأحد فلا يؤثر في فساد البيع كما لو باع ما سوى الرقيق على أن لا يبيع أو لا يهب إلا أنه نوى مضرة للمشتري فكان باطلا والبيع صحيحا.(بدائع الصنائع،كتاب البيع،فصل في شرائط الصحة في البيوع،ج:6،ص:14،15)
وإن كان شرطا ليس فيه منفعة ولا مضرة نحو أن يبيع طعاما بشرط أن يأكله أو ثوبا بشرط أن يلبسه فالبيع جائز كذا في المحيط. ولو اشترى جارية بشرط أن يطأها أو لا يطأها فعند محمد - رحمه الله تعالى - يجوز في الوجهين وهو الصحيح كذا في محيط السرخسي.(الفتاوى الهندية،كتاب البيوع،الباب العاشر:في الشروط التي تفسد البيع والتي لاتفسد،ج:3،ص:135)