بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

لے پالک بیٹوں کا میراث میں حصہ


سوال

ایک خاتون نے دو لڑکے لے پالک کے طور پر پالے ہیں اِسی خاتون کی اپنی آٹھ بیٹیاں بھی ہیں۔کیا اس خاتون کی وفات کے بعد لے پالک لڑکوں کا میراث میں حصہ بنے گا یا نہیں ؟

جواب

  واضح رہے کہ  شریعتِ مطہرہ میں لے پالک /منہ بولی اولادکی حیثیت حقیقی اولاد  کی طرح نہیں ہے اس لیے ان پر حقیقی اولاد کےاحکام جاری  نہیں ہوتے ،اورلے پالک اولاد کو گود لینے والے کی میراث میں سے کوئی حصہ نہیں ملتا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اس خاتون کی وفات کے بعد اس کے لے پالک  لڑکوں  کا مرحومہ کی میراث میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔

 

قال الله تعالىٰ:"وَمَا جَعَلَ أَدۡعِيَآءَكُمۡ أَبۡنَآءَكُمۡۚ ذَٰلِكُمۡ قَوۡلُكُم بِأَفۡوَٰهِكُمۡۖ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلۡحَقَّ وَهُوَ يَهۡدِي ٱلسَّبِيلَ" (الأحزاب :4)

‌فلا ‌يثبت ‌بالتبني ‌شيء ‌من أحكام البنوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك. (التفسیرالمظهري،ج:5ص481)


فتویٰ نمبر : 6265/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور