بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بیوی کے ماضی کے تعلقات کی وجہ سے نکاح کو ختم كرنا


سوال

سوال: ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا، لیکن کچھ ہی عرصہ بعد اس عورت کے اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ تعلقات منظرِ عام پر آ گئےاور یہ تعلقات نکاح سے پہلےقائم کی گئی تھی ،لڑکے والوں کا مؤقف ہے کہ اگر ہمیں پہلے یہ سب پتہ ہوتا تو ہم شادی پر 20–25 لاکھ روپے خرچ نہ کرتے، نہ ہی ہماری ایسی بے عزتی ہوتی۔ بہتر تھا کہ یہ لڑکی نکاح سے انکار کر دیتی۔ کئی سال ہو گئے، اولاد بھی نہیں ہو سکی۔ دونوں خاندانوں کے درمیان اب مصالحت کی کوئی صورت باقی نہیں رہی ،اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ: 1. اس عورت کو طلاق دی جائے یا خلع لیا جائے؟ 2. اگر عورت خلع پر راضی نہ ہو تو کیا کیا جائے؟ 3. مہر جو بہت زیادہ رکھا گیا تھا، اس کا کیا کیا جائے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر شوہر بیوی کے ماضی کے تعلقات کی وجہ سے نکاح کو جاری رکھنا نہیں چاہتا، تو اس کے پاس دو شرعی  حل ہیں،ایک طلاق دینا:یعنی شوہر کو شرعی طور پر طلاق دینے کا حق حاصل ہے، وہ طلاق دے سکتا ہے،اور اس صورت میں شوہر پر پورا مہر ادا کرنا لازم ہوگا،دوسرابیوی کومہر کے بدلےخلع پر امادہ کرنا:یعنی شوہرخود یا جرگے کے ذریعے بیوی کو اس بات پر امادہ کرےکہ وہ مال کے بدلے خلع کا مطالبہ کرے۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر دونوں خاندانوں کے درمیان  مصالحت کی کوئی صورت باقی نہ رہی ہو ،توشوہر بیوی کوطلاق دے سکتا ہے، یا بیوی کوخلع پرامادہ کر سکتا ہے،البتہ مہر کی ادائیگی اس بات پر منحصر ہے کہ نکاح کس طریقے سے ختم ہواہے،چنانچہ اگر نکاح طلاق کی صورت میں ختم ہوجائےتو مکمل مہرادا کرنا واجب ہوگا، اوراگر نکاح خلع کی صورت میں ختم ہوجائےتواگر مہرکے بدلےخلع ہوجا ئے،تو اس صورت میں شوہر سےمہر ساقط ہو جائے گا ،اور اگر مہر کے علاوہ مال پر خلع ہوجا ئے تواس صورت میں شوہر اسی متعین شدہ مال کا مطالبہ کرے گا،اورمہر اگر دیا ہوتو واپس طلب نہیں کرسکتا،اور اگر نہ دیا ہوتو ساقط ہو جائے گا۔  

 

قال الله تعالى: الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان.( سورة البقرة:آیت نمبر229 )

وقال أيضا: وان طلقتموهن من قبل أن تمسوهن وقد فرضتم لهن فريضة فنصف ما فرضتم.( سورة البقرة:آیت نمبر237 )

‌وإن بمال آخر غير المهر فله المسمى وبرئ كل منهما مطلقا في الأحوال كلها.( رد المحتار، كتاب الطلاق، باب الخلع، فائدة في شرط قبول الخلع وألفاظه، ج:3، ص:453)

إذا ‌تشاق ‌الزوجان ‌وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.( الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، باب في الخلع وما في حكمه، فصل في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به، ج:1، ص:488 )

‌والمهر ‌يتأكد ‌بأحد ‌معان ‌ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمن صاحب الحق.( الفتاوى الهندية، كتاب النكاح، باب فى المهر، فصل فيما يتأكد به المهر والمتعة، ج:1، ص:303 )

‌إن ‌خالعها ‌على ‌مهرها ‌فإن ‌كانت ‌المرأة مدخولا بها وقد قبضت مهرها يرجع الزوج عليها بمهرها وإن لم يكن مقبوضا سقط عن الزوج جميع المهر ولا يتبع أحدهما صاحبه بشيء.( الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، باب في الخلع وما في حكمه، ج:1، ص:489 )


فتویٰ نمبر : 7179/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور