بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
ثمن کی ادائیگی سے پہلے مبیع کا ہلاک ہونا
سوال
ایک شخص نے بکری کی بیع کی ،لیکن قیمت وصول کرنے سے پہلے جانور مرگیا۔توکیایہ بیع مکمل شمار ہوگی؟اور اس کا تاوان کس پر ہوگا؟
جواب
واضح رہے کہ خریدار کےقبضہ کرنے سے پہلےبائع کےہاںمبیع ہلاک ہو جائےتوبیع ختم ہوکراس کا تاوان فروخت کنندہ کے ذمےلازم ہوگا،اور وہ خریدار سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کر سکتا، لیکن اگر فروخت کنندہ نے مبیع خریدار کے حوالہ کردیاہو اور اسکے بعدوہ ہلاک ہو اہوتو بیع مکمل اور نافذشمار ہوکرمشتری پر ثمن کی ادائیگی لازم ہوگی۔
صورت مسؤلہ میں اگر بکری خریدار کو حوالہ کرنے سے پہلے ہی ہلاک ہوگئی ہو تو تاوان فروخت کنندہ کا ہوا اورخریدار سے کسی چیز کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔اور اگر بکری خریدار کو حوالہ کرنے کے بعد اس کےپاس ہلاک ہوئی ہو تو بیع مکمل شمار ہو کر خریدار پوری قیمت ادا کرنےکا ذمہ دار ہوگا۔
ولو هلك في يد البائع انفسخ البيع ولا شيء على المشتري... قال: "وخيار المشتري لا يمنع خروج المبيع عن ملك البائع"...فإن هلك في يده هلك بالثمن.(الهداية،باب خيارالشرط،ج:3،ص:3،32)