بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/11/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

سمندر کے پانی کا حکم


سوال

سمندر میں مختلف قسم کے جانور وغیرہ مر جاتے ہیں اور اس کا پانی کھارا بھی ہوتا ہے۔ تو اگر ساحل پر کوئی کھڑا ہو اور اس کے کپڑوں کو سمندر کا پانی لگ جائے، تو کیا اس سے کپڑے ناپاک ہوں گے یا نہیں؟

جواب

سمندر کا پانی  ماءمطلق ہے، حدیث مبارک میں  اس کوطہورکہاگیا ہے ،یعنی خود بھی پاک ہے اور پاک کرنے والابھی ہے۔

لہذاسمندر کاپانی اگر چہ اس میں  جانور وغیرہ مرتے ہیں پھر بھی پاک ہے۔لہذا اس کاکپڑوںوغیرہ کو لگ جانے سےکپڑے ناپاک نہ ہوں گے۔

 

 عن أبي هريرةرضي اللّٰه عنه، يقول: سأل رجل رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلّم فقال: يا رسول اللّٰه إنا نركب البحر ونحمل معنا القليل من الماء، فإن توضأنا به عطشنا، أفنتوضأ من ماء البحر؟ فقال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلّم: " هو الطهور ماؤه الحلّ ميتته ".(سنن الترمذي،كتاب الطهارة،باب ما جاء في ماءالبحرأنه طهور ،رقم الحدیث:69,ج:1،ص:100)

وحاصله أن الماء الجاري وما هو في حكمه إذا وقعت فيه نجاسة إن ظهر أثرها لا يجوز الوضوء به، وإلا جاز؛ لأن وجود الأثر دليل وجود النجاسة.(البحر الرائق،كتاب الطهارة ، ج:1، ص:152)


فتویٰ نمبر : 10480/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور