بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حرام بجلی استعمال کرنے والے کے ہاں چائے وغیرہ پینا


سوال

میں ایک ایسے شخص کے ہاں مزدوری کرتا ہوں جو چوری کی بجلی استعمال کرتا ہے، اور اسی بجلی سے پانی بھی نکالتا ہے، جسے چائے وغیرہ بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تواس پانی اور چائے کا  کیاحکم ہے اور میرے لئے اس کا  استعمال کرنا کیسا ہے؟

جواب

سرکاری ادارے پوری قوم کی ملکیت ہیں، اور ان کی چوری بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح کہ کسی ایک فرد کی چوری حرام ہے،لہذابجلی  جو سرکاری ادارے کے زیر انتطام ہونے کی وجہ سے پوری قوم کی ملکیت ہے   اس کی چوری بھی حرام ہے۔البتہ جن حلال اشیاء سے انتفاع لینے میں چوری کی بجلی کا دخل ہو وہ اس بجلی کے استعمال سے حرام نہیں ہوتی لیکن اس سے اجتناب کرنا بہتر ہے ۔

صورت مسؤلہ میں  چوری کی بجلی سےنکلنےوالا پانی اوراس پانی سے بننےوالاچائےحرام نہیں۔اس لئے اس  کا استعمال کرنا جائز ہے۔

 

 لایجوز التصرف في مال غیره بلا إذنه. (ردالمحتار علی الدرالمختار، الغصب ، فیما یجوز من التصرف بمال الغیر بدون إذن صریح،ج:9 ،ص:291)

إن المحظور لغیرہ لا یمتنع أن یکون سببا لحکم شرعي،ألا ترى أن الصلاة في الأرض المغصوبة تجوز وتكون ‌سببا لحصول الثواب الجزيل.(تبيين الحقائق شرح كنزالدقائق،كتاب الغصب،ج:6،ص:324)


فتویٰ نمبر : 6268/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور