بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

قربانی کے گوشت کو تقسیم کیے بغیراہل و عیال کے لیے رکھ لینا


سوال

قربانی کے گوشت کو فقرا اور رشتہ داروں پر تقسیم کیے بغیر اپنے اہل و عیال کے لیے رکھ لینا  از روئے شریعت جائز ہے یا نہیں؟

جواب

قربانی کے گوشت کو تین حصوں میں تقسیم کرنا مستحب ہے ۔ کہ ایک حصہ فقرا و مساکین کو دیا جائے،ایک حصہ اصدقا و اقارب  میں تقسیم کیا جائےاور تیسرا حصہ اپنے لیے رکھ لیا جائے۔ تاہم اگر قربانی کا سارا گوشت تقسیم کیے بغیراپنے لیے رکھ دیا جائے تو بھی جائز ہے؛کیونکہ قربانی میں اصل مقصود اللہ کی خوشنودی کے لیے خون بہانا ہوتاہے،اور گوشت صدقہ کرنا ایک مستحب عمل ہے ۔

 

‌(ويأكل من لحم الأضحية ويأكل غنيا ويدخر، وندب أن لا ينقص التصدق عن الثلث) . وندب تركه لذي عيال توسعة عليهم قوله:(و ندب.... إلخ) قال في البداىٔع: والأفضل ‌أن ‌يتصدق بالثلث ويتخذ الثلث ضيافة لأقربائه وأصدقائه ويدخر الثلث. ويستحب أن يأكل منها، ولو حبس الكل لنفسه جاز لأن القربة في الإراقة والتصدق باللحم تطوع، قوله : (وندب تركه لذي عيال إلخ) أي ترك التصدق المفهوم من السياق، قوله: (لذي عيال) غير موسع الحال.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الأضحية،ج:9،ص:474)


فتویٰ نمبر : 10497/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور