بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/11/2026 |
سرکاری درختوں کو کاٹنا
سوال
کابل شاروالی جو کہ ایک سرکاری انتظامی ادارہ ہے اس کے مربوط علاقوں میں لوگ درختوں کو کاٹتے ہیں یا ایکسیڈنٹ کی وجہ سے درختوں کو نقصان پہنچتاہے. اس كے جبران خسارہ کے بارے میں مطلع فرمائیں اس کا کیا حکم ہے ؟
جواب
شریعت مطہرہ کی روشنی میں سرکاری ملکیت کے درختوں کو کاٹنے کےلیے متعلقہ ادارے سے اجازت ضروری ہے بغیر اجازت کاٹنا یا نقصان پہنچانا ناجائز ہے اورتاوان لازم ہوگا، اسی طرح اگر کسی حادثے کی وجہ سے درخت کو نقصان پہنچا تو اس کا تاوان بھی لازم ہوتاہے۔ تاوان کی مقدار درخت کی قیمت کے مطابق ہوگی۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر حکومت کی مملوکہ زمین میں موجود درختوں کو کوئی شخص کاٹے یا گاڑی کے ٹکر سے نقصان پہنچائے تواس سے قیمت وصول کی جا سکتی ہے ۔
الأشجار النابتة بلا غرس في ملك أحد هي ملكه ليس لآخر أن يحتطب منها إلا بإذنه فإن يفعل يكن ضامناً.(شرح المجلة لسليم رستم باز،المادة:١٢٤٤،ج:٤،ص:١٨٢)
(مادة 912) إذا أتلف أحد مال غيره الذي في يده أو في يد أمينه قصدا أو من غير قصد يضمن
(مجلة الأحكام العدلية، الکتاب الثامن الغصب، الفصل في الإتلاف مباشرۃ، ص:177)