بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

چاند کی پیدائش اور اسلامی مہینوں کا آغاز


سوال

 

احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ چاند دیکھ کر مہینے کا آغاز کرو اس لئے مسلمان ہر مہینے کی 29 تاریخ کو آسمان پر نئے چاند کو ڈھونڈتے ہیں اور چاند نظر آ جائے تو اگلے مہینے کا آغاز کرتے ہیں۔ اصل مقصد اس بات کا تعین کرنا ہوتا ہے کہ نیا چاند وجود میں آ چکا ہے چاند دیکھنا اصل مقصد نہیں ہوتا ۔ لیکن پرانے زمانے میں یہی ایک طریقہ تھا کہ چاند دیکھ کر چاند کی پیدائش کا پتا کیا جائے کیونکہ اس وقت نہ دوربین تھی اور نہ جدید آلات اس لئے لوگ پہلی تاریخ کے چاند کو آسمان پر ڈھونڈتے تھے ۔ آجکل محکمہ فلکیات والے پہلے سے بتا دیتے ہیں کہ نیا چاند کس وقت پیدا ہو گا اس لئے چاند کو آسمان پر ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مہینے کے آغاز کے لئے چاند کی پیدائش کو معیار قرار دیا جائے اور یہ کام محکمہ فلکیات کے حوالے کیا جائے ۔ علماء کرام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ محکمہ فلکیات کے حق میں فتوٰی جاری کریں اور یہ کام محکمہ فلکیات کے حوالے کریں کیونکہ ان کو پہلے سے پتا ہوتا ہے کہ نیا چاند کس وقت پیدا ہو گا ان کا یہی کام ہے وہ دن رات سورج چاند اور ستاروں پر تحقیق کرتے رہتے ہیں ۔ وہ ہر وقت چاند کو دیکھتے ہیں انہیں عام آدمی کی شہادت کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ اس لئے علماء کرام محکمہ فلکیات کے حق میں فتوٰی جاری کریں اور یہ کام محکمہ فلکیات کے حوالے کریں ۔ محکمہ فلکیات والے چاند نظر آنے کا باضابطہ اعلان کریں۔ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے علماء کرام محکمہ فلکیات پر اعتبار نہیں کرتے اور عام آدمی کی شہادت پر اعتبار کرتے ہیں عام آدمی کے پاس نہ دوربین ہیں اور نہ جدید آلات۔ وہ بغیر کسی آلات کے آسمان پر چاند ڈھونڈتے ہیں اور اکثر غلطیاں کرتے ہیں چاند کی غلط شہادت دیتے ہیں اس کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں ہمارے ملک میں تین چار عیدیں عام آدمی کی غلط شہادت کی وجہ سے ہی ہوتی ہیں لیکن ہمارے علماء کرام عام آدمی کی شہادت کو یہ کہہ کر قبول کر لیتے ہیں کہ عاقل بالغ آدمی نے شہادت دے دی ہے شریعت کا تقاضہ پورا ہو چکا ہے ۔ کیا عاقل بالغ آدمی سے غلطی نہیں ہو سکتی؟؟؟ ہمارے علماء کرام کو اس پر سوچنا چاہیے اور چاند دیکھنے کے کام کو عام آدمی کی بجائے محکمہ فلکیات کے حوالے کریں کیونکہ ان کا یہی کام ہے ۔ علماء کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ چاند کے حوالے سے محکمہ فلکیات کی معلومات 100 فیصد درست ہوتی ہیں ۔ باقی کائنات کے بارے میں ان کی معلومات درست بھی ہوتی ہیں اور غلط بھی کیونکہ کائنات بہت بڑی ہے اس میں اربوں کھربوں ستارے موجود ہیں لیکن چاند تو زمین کا پڑوسی سیارہ ہے اس لئے چاند کے حوالے سے محکمہ فلکیات کی معلومات 100 فیصد درست ہوتی ہیں وہ ہر وقت چاند کو دیکھتے ہیں اور چاند پر ریسرچ کرتے ہیں انہیں عام آدمی کی شہادت کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اس لئے موجودہ حالات کا تقاضہ یہی ہے کہ علماء کرام رویت ہلال کے کام کو محکمہ فلکیات کے حوالے کریں اور محکمہ فلکیات کے حق میں فتوٰی جاری کریں محکمہ فلکیات والے چاند نظر آنے کا باضابطہ اعلان کریں۔ جب تک علماء کرام محکمہ فلکیات کے حق میں فتوٰی جاری نہیں کریں گے اس وقت تک عوام محکمہ فلکیات کی بات پرعمل نہیں کرے گی اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء کرام محکمہ فلکیات کے حق میں فتوٰی جاری کریں ۔ اور اس فتوے کو اپنی ویب سائٹ پر پوسٹ کریں تاکہ سب لوگ اسے پڑھ سکیں۔

جواب

واضح رہے کہ شرعی احکام کا  مدار چاند کی پیدائش یاافق پر موجود ہونے پر نہیں، اورنہ ہی عہدنبوی ﷺمیں آنکھ سے چاند دیکھناچاند کی پیدائش کی یقین دہانی کے لئے تھابلکہ شرعی احکامات  کا مدار  چاند  کے  آنکھوں سے دیکھے جانے پر ہے، عدت کے مسائل ہوں یا ماہ رمضان کی ابتداء و انتہاء ہو، یا عید  منانے کا مسئلہ ہو، تمام احکامات کا مدار چاند کی رؤیت پر ہے نہ کہ چاند کی پیدائش یاافق میں موجود ہونے پر  جیساکہ متعدد احادیث سے یہ بات ثابت ہے، اسلامی عبادات مثلا روزہ، حج ، زکوٰۃ وغیرہ کا تعلق قمری مہینہ سے ہے، اور خصوصا رمضان مبارک کی تو ابتداء ہی چاند دیکھنے پر موقوف ہے، اور اس کے لیے رسول اللہ ﷺنے ایک آسان اور عام فہم طریقہ بتادیا کہ چاند دیکھنے پر روزہ رکھو ، اور چاند دیکھنے پر افطار کرو، تاکہ ایک عام فہم،سادہ لوح مسلمان کے لیے بھی فرائض کی ادائیگی آسان ہو۔

 

عن ابن عمر رضي اللّٰه عنهما قال:سمعت رسول اللّٰه صلى الله عليه وسلم يقول: "إذا رأيتموه فصوموا، وإذا رأيتموه فأفطروا، فإن غم عليكم فاقدروا له" (صحيح البخاري،كتاب الصوم،باب: هل يقال رمضان أو شهر رمضان،ومن رأى كله واسعا،رقم الحديث:1801،ج:2،ص:272)

وكذلك إن غم على الناس هلال شوال أكملوا عدة رمضان ثلاثين يوما، لأن الأصل بقاء الشهر وكماله، فلا يترك هذا الأصل إلا بيقين على الأصل المعهود، أن ما ثبت بيقين لا يزول إلا بيقين مثله(بدائع الصنائع،كتاب الصوم،فصل في انواع الصيام،ج:2،ص:80)

(قوله: ولا عبرة بقول المؤقتين) أي ‌في ‌وجوب ‌الصوم ‌على ‌الناس بل في المعراج لا يعتبر قولهم بالإجماع، ولا يجوز للمنجم أن يعمل بحساب نفسه، وفي النهر فلا يلزم بقول المؤقتين أنه أي الهلال يكون في السماء ليلة كذا وإن كانوا عدولا في الصحيح كما في الإيضاح(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الصوم،مطلب:لا عبرةبقول المؤقتين في الصوم،ج:3،ص:354)


فتویٰ نمبر : 10494/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور