بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 02/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

عددی چیز کی طرف طلاق کی نسبت کرنے سے طلاق کا حکم


سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص دو پچاس کے نوٹ اپنی بیوی کو دے کر یہ کہے کہ یہ تمہاری طلاقیں ہیں ، اس کے بعد وہ چھت پر جاکر  بیوی کے ماموں سے یہ کہے کہ اپنی بھانجی کو لے جاؤ اب میں اس سے فارغ ہوں ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ اس سے کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟مع حوالے کے جواب درکار ہے۔

جواب

واضح  رہے کہ  الفاظِ طلاق کہے بغیر محض بیوی کو کوئی چیز  دینے  سے طلاق واقع نہیں ہوتی ،  لیکن اگر کوئی  چیزدے کر یا کسی چیز کی طرف اشارہ کر کے اس کے ساتھ تشبیہ دے کر طلاق دی جائے ،جیسے پتھر یا انگلیوں کی طرف اشارہ کر کےکہا جائے کہ تمہیں اتنی طلاقیں ہیں، تو جس تعداد میں وہ چیزہو،اتنی طلاقیں واقع ہوں گی ۔

 لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے  بیوی کودو نوٹ دے کر یہ کہا ہو کہ "یہ تمہاری طلاقیں ہیں" تو اس سےبیوی پر دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور  اس نے  بیوی کے ماموں سےجو الفاظ  کہے تھےکہ "اپنی بھانجی کو لے جاؤ اب میں اس سے فارغ ہوں " اگر ان الفاظ سےبھی اس کا ارادہ انشاء طلاق تھا  ،تو تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی ہےلیکن اگران الفاظ سے  مزیدطلاق کا ارادہ نہیں تھابلکہ پہلے سے واقع ہونے والی طلاقوں کی طرف اشارہ کر کےبتایا ہو کہ "لے جاؤ میں اس سے فارغ ہوں"تو پھر تیسری طلاق واقع نہیں ہوئی ۔

 

ولو قال ‌أنا ‌منك ‌بائن أو أنا عليك حرام ينوي الطلاق فهي طالق.( الهداية في شرح بداية المبتدي، کتاب الطلاق، باب إیقاع الطلاق، ج:1، ص:230 )

(‌أنت ‌طالق هكذا ‌مشيرا ‌بالأصابع) ‌المنشورة (‌وقع ‌بعدده).( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب الطلاق، باب الصريح، ص:210 )

إذا قال: ‌خذي ‌طلاقك يقع، وكذا وإذا قال لها: أوجدت طلاقك يقع، وإذا قال لها شئت طلاقك ذكر شيخ الإسلام رحمه الله في «شرحه» أنه يقع الطلاق، ولم يشترط نية الإيقاع.( المحيط البرهاني، ‌‌كتاب الطلاق، فصل: فيما يرجع إلى صريح الطلاق، ج:3، ص:210 )

(‌ما ‌لم ‌يوضع ‌له) ‌أي ‌الطلاق (‌واحتمله) وغيره (ف)الكنايات (لا تطلق بها)قضاء (إلا بنية أو دلالة الحال) وهي حالة مذاكرة الطلاق أو الغضب.( الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار، كتاب الطلاق، باب الكنايات، ص:214 )

(‌قوله ‌وركنه ‌لفظ ‌مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا، وبه ظهر أن من تشاجر مع زوجته فأعطاها ثلاثة أحجار ينوي الطلاق ولم يذكرلفظا لاصريحا ولا كناية لا يقع عليه كما أفتى به الخير الرملي وغيره.( رد المحتار، كتاب الطلاق، ركن الطلاق، ج:3، ص:230 )


فتویٰ نمبر : 7179/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور