بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 02/09/2026 |
کسی آدمی کا اپنے آپ کو”زن طلاق“کہنا
سوال
پشتوزبان میں"زن طلاق"کالفظ گالی کے طورپراستعمال ہوتا ہے جس کے لغوی معنی ہے وہ شخص جس نے بیوی کوطلاق دی ہوجبکہ عرف میں یہ بےغیرت وغیرہ کے طورپراستعمال ہوتاہےاستعمال کے وقت کسی کواس کے لغوی معنی کاپتہ بھی نہیں ہوتاتوسوال یہ ہےکہ کیااگرکوئی شادی شدہ مردخودکوگالی کےطورپرزن طلاق بولے توکیااس سےاس کی بیوی کوطلاق پڑے گی؟جیسےکہہ دےکہ یہ کام مجھ زن طلاق سے ہوا۔
جواب
واضح رہےکہ طلاق کی دوقسمیں ہیں:ایک طلاق صریحی (یعنی ان الفاظ سےطلاق دیناجوطلاق ہی کے لئے استعمال ہوتےہوں،طلاق کےعلاوہ استعمال نہ ہوں)،دوسرا طلاق کنائی (یعنی وہ الفاظ جوطلاق کےلئے بھی استعمال ہوں اورطلاق کےعلاوہ بھی استعمال ہوں) پہلے میں نیت کی ضرورت نہیں ہوتی،جب کہ دوسرے میں نیت کی ضرورت ہوتی ہے۔
صورت مسؤلہ میں لفظ زن طلاق پشتوزبان میں گالی گلوچ کے لئےاستعمال ہوتاہے،اورعرف میں عموماً یہ طلاق کے لئےاستعمال نہیں ہوتا،چنانچہ اگرکوئی گالی کے طورپراپنے آپ کوزن طلاق کہے،طلاق کی نسبت بالکل نہ ہوتواس سےطلاق واقع نہیں ہوگی۔
الطلاق على ضربين صريح وكناية فالصريح قوله أنت طالق ومطلقة وطلقتك فهذايقع به الطلاق الرجعي" لأن هذه الألفاظ تستعمل في الطلاق ولاتستعمل في غيره فكان صريحا وأنه يعقب الرجعة بالنص"ولايفتقرإلى النية"لأنه صريح فيه لغلبة الاستعمال---ولوقال أنت مطلقة"بتسكين الطاء"لايكون طلاقاإلابالنية "لأنهاغيرمستعملة فيه عرفافلم يكن صريحا. (الهداية،كتاب الطلاق، باب إيقاع الطلاق،ج:1،ص:225)