بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

قربانی کی نیت سے خریدے گئےگابھن جانور کابچہ فروخت کرنا


سوال

ایک شخص نے گابھن جانوربنیت قربانی خریداتقریباچھ مہینے پہلےدوران خریداری اس نےیہ نیت کی تھی کہ جانورکوقربان کرےگااوراسکے بچےکوبیچےگااب اسکابچہ بڑاہے،اسکوفروخت کرنااس کیلئےکیساہے؟

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی صاحب نصاب شخص کسی جانورکوقربانی کی نیت سے خریدے،تواس صورت میں یہ لازم نہیں کہ اسی جانورہی کوقربانی میں ذبح کرے بلکہ دوسرے جانورکوبھی ذبح کرسکتاہے،لیکن اگرغیرصاحب نصاب شخص نے کسی جانورکوقربانی کےلئے خریداتواس کووہی جانور قربانی میں ذبح کرناہوگا،اگراس جانورنے قربانی سے پہلے بچہ جناتواس کے ساتھ بچہ کوبھی ذبح کیاجائےگا،البتہ اگرقربانی کےایام گزرگئےاوراس کو ذبح نہ کیاہوتواب اس کوزندہ صدقہ کرناہوگا۔

صورت مسؤلہ میں اگرگابھن جانورکوقربانی کی نیت سے خریدنے والاشخص صاحب نصاب ہوتووہ بچے کوبیچ سکتا ہے،ليكن اگریہ شخص غیر صاحب نصاب ہو،تواس پراسی جانورکوقربانی میں ذبح کرنالازم ہےاوراس کے بچےکوماں کے ساتھ کرے،یاایام نحرکے بعداس کوزندہ صدقہ کردے۔

 

ولدت الأضحية ولدًاقبل الذبح يذبح الولد معها.(قوله:قبل الذبح) فإن خرج من بطنهاحيًّافالعامة أنه يفعل به مايفعل بالأم،فإن لم يذبحه حتى مضت أيام النحر يتصدق به حيًّا،فإن ضاع أوذبحه وأكله يتصدق بقيمته،فإن بقي عنده وذبحه للعام القابل أضحية لايجو،وعليه أخرى لعامه الذي ضحى ويتصدق به مذبوحًامع قيمة مانقص بالذبح،والفتوى على هذاخانية(قوله:يذبح الولد معها)إلاأنه لا يأكل منه بل يتصدق به فإن أكل منه تصدق بقيمة ماأكل.والمستحب أن يتصدق به خانية،قيل ولعل وجهه عدم بلوغ الولدسن الإجزاء فكانت القربة في اللحم بذاته لافي إراقة دمه اهـ تأمل.قال في البدائع:وقال في الأصل:وإن باعه تصدق بثمنه لأن الأم تعينت للأضحية والولديحدث على صفات الأم الشرعية.ومن المشايخ من قال هذافي الأضحية الموجبة بالنذرأومافي معناه كشراء الفقير وإلافلا،لأنه يجوزالتضحية بغيرها فكذاولدها(قوله:وعند بعضهم يتصدق به بلاذبح) قدمنا عن الخانية أنها لمستحب،وظاهرهولوفي أيام النحر،وانظر ما في الشرنبلالية عن البدائع۔ (ردالمحتارعلی الدرالمختار،کتاب الاضحيةج:6، ص:322)


فتویٰ نمبر : 10498/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور