بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 31/10/2026 |
نفاس کا خون چالیس دن سے کم پر بند ہونے پر نماز کا حکم
سوال
ایک عورت کو بچے کی ولادت کے بعد نفاس کا خون آنا شروع ہوا اور مسلسل آتا رہا، یہاں تک کہ اڑتیسویں دن خون بند ہو گیا۔ اس کے بعد اس عورت نے نہ غسل کیا اور نہ نماز پڑھی، اور چالیسویں دن غسل کرکے نماز پڑھنا شروع کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ عورت پچھلے دو دن کی نمازوں کی قضا کرے گی یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن ہے، اور کم سے کم مدت کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ اگر خون چالیس دن سے پہلے بند ہو جائے تو عورت پاک سمجھی جائے گی لہذا اس پرغسل کرکے نماز پڑھنا فرض ہو گا۔
لہٰذا صورت مسؤلہ میں اگر مذکورہ عورت کا خون اڑتیسویں دن بند ہو گیا تھا ،تو اس پر لازم تھا کہ وہ غسل کرکے نمازیں ادا کرتی۔ چونکہ اس نے دودن نمازیں ادا نہیں کیں، اس لیے ان دو دنوں کی نمازوں کی قضا اس پر واجب ہے۔
(ويحل وطؤها إذا انقطع حيضها لأكثره) بلا غسل وجوباً بل ندباً. (وإن) انقطع لدون أقله تتوضأ وتصلي في آخر الوقت، وإن (لأقله) فإن لدون عادتها لم يحل، وتغتسل وتصلي وتصوم احتياطاً؛ وإن لعادتها، فإن كتابية حل في الحال وإلا (لا) يحل (حتى تغتسل) أو تتيمم بشرطه (أو يمضي عليها زمن يسع الغسل) ولبس الثياب (والتحريمة) يعني من آخر وقت الصلاة لتعليلهم بوجوبها في ذمتها. (الدر المختار وحاشية ابن عابدين،باب الحيض،ج:1ص:294)
أقل النفاس ما يوجد ولو ساعةً، وعليه الفتوى، وأكثره أربعون، كذا في السراجية. وإن زاد الدم على الأربعين فالأربعون في المبتدأة والمعروفة في المعتادة نفاس، هكذا في المحيط"(الفتاوى الهندية. الفصل الثالث في الإستحاضة،ج:1ص:37)