بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

حیض کی وجہ سے اعتکاف کا ٹوٹ جانا


سوال

اعتکاف میں اگر عورت کو حیض آجائے یا کسی اور وجہ سےٹوٹ جائے تو اس کاکیا حکم ہے،اس کی قضاء کرنی ہوگی یا نہیں ؟اگر قضاء کرنی ہوگی تو قضاء کیسی کرنی ہوگی؟

جواب

اگر دورانِ اعتکاف عورت کے ایام شروع ہوجائیں تو اس سےاعتکاف ٹوٹ جائے گا، ایسی حالت میں عورت اعتکاف چھوڑدےگی، اور بعد میں روزہ کے ساتھ ایک دن کے اعتکاف کی قضا کرنا لازم ہوگی، دس دن کی قضا لازم نہیں ہوگی، اس لیے رمضان المبارک ہی میں اسی کی قضا کرنا ممکن ہو تو کرلے، ورنہ رمضان کے بعد  بھی  عیدین وایام تشریق کے علاوہ کسی دن مغرب سے دوسرے دن کے غروب آفتاب تک اعتکاف کی قضا کرلےاور اس دن روزہ بھی رکھے۔

 

وعلی کلّ فیظھر من بحث ابن الھمام لزوم الاعتکاف المسنون بالشروع، وأن لزوم قضاء جمیعِه أو باقیه مخرّج علی قولِ أبی یوسف،وأمّا علی قول غیرہ فیقضی الیوم الّذی أفسدہ لاستقلال کل یوم بنفسه.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصوم ،باب الإعتكاف،ج:2،ص:444)

"ولو حاضت المرأة في حال الاعتكاف فسد اعتكافها؛ لأن الحيض ينافي أهلية الاعتكاف لمنافاتها الصوم، ولهذا منعت من انعقاد الاعتكاف فتمنع من البقاء". (بداىٔع الصناىٔع،كتاب الاعتكاف،فصل في ركن الاعتكاف،ج:3،ص:116)


فتویٰ نمبر : 10474/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور