بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/10/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اگرمیں اس اجتماعی گھرمیں واپس آیا تو مجھ پرمیری بیوی طلاق ہوگی، کے الفاظ کے ساتھ طلاق معلق کرنا


سوال

دو بھائیوں کے درمیان گھریلواختلافات کی بنا پرایک بھائی غصے میں گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ اس نے جذبات میں اپنے بھائی سے تین باریہ الفاظ کہے: " اگر میں اس اجتماعی گھرمیں واپس آیا تو مجھ پرمیری بیوی طلاق ہوگی ۔" یہ بات اس وقت کہی گئی جب وہاں تین افراد اور بھی موجود تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس صورتحال میں کیا کرنا چاہیے؟ کیا اس بھائی کے اپنے اجتماعی گھرمیں واپس آنے کی کوئی شرعی گنجائش ہے؟ آپ سے اس معاملے میں رہنمائی کی درخواست ہے تاکہ مسئلے کا درست حل نکالا جا سکے۔

جواب

واضح رہے کہ جب طلاق کسی شرط کے ساتھ معلق ہو،توجب بھی وہ شرط پوری ہو، طلاق واقع ہوگی اورشرط پوری نہ ہونے کی صورت میں طلاق واقع نہ ہوگی۔

صورت مسؤلہ میں اس شخص کا یہ کہنا کہ " اگرمیں اس اجتماعی گھرمیں واپس آیا تومجھ پرمیری بیوی طلاق ہوگی"تعلیق طلاق ہے،اس کے بعدجب بھی یہ بھائی اس مشترکہ گھرمیں آئے گا،توایک طلاق رجعی واقع ہوگی۔

 

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق" ۔ (الفتاوى الهندية، الفصل الثالث في تعليق الطلاق، ج:1 ، ص:457)


فتویٰ نمبر : 7164/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور