بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 01/09/2026 |
شوہر کی قربانی سے بیوی کا ذمہ فارغ ہونا
سوال
اگر ایک شخص باقاعدہ قربانی کرتا ہو اور اس کی بیوی کے ساتھ 8 تولہ سونا ہو، تو کیا بیوی پرعلیحدہ قربانی واجب ہے یا شوہر کی قربانی کافی ہے ؟
جواب
واضح رہے کہ قربانی ہر اس مسلمان مرد و عورت پر واجب ہے جو بقر عید کے موقع پر اتنے مال کا مالک ہو جو نصاب تک پہنچتا ہو، نیز ہر صاحب نصاب شخص پر علیحدہ قربانی واجب ہوتی ہے ، اگر ایک شخص قربانی کرے ،تو اس سے دوسرے کا ذمہ فارغ نہیں ہوتا اگر چہ دونوں آپس میں میاں بیوی کیوں نہ ہوں۔
صورت مسئولہ میں اگر بیوی کے ساتھ اتنا سونا ہے کہ وہ نصاب تک پہنچتا ہے ،تو اس پر الگ قربانی کرنا واجب ہے ، شوہر کی قربانی سے اس کا ذمہ فارغ نہیں ہوتا۔
أما صفتها فهي واجبة في ظاهر الرواية على الرجل والمرأة الموسر المقيم في الامصار دون المسافر.( فتاوى قاضي خان ، كتاب الأضحية ، الفصل الأول، ج:3،ص:242)
والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها.....والمرأة تعتبر موسرة بالمهر إذا كان الزوج مليا عندهما، وعلى قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - الآخر لا تعتبر موسرة بذلك قيل: هذا الاختلاف بينهم في المعجل الذي يقال له بالفارسية (دست بيمان).(الفتاوى الهندية، كتاب الأضحية، الباب الأول، ج: 5 ،ص: 337)