بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 01/09/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

بحالت ضرورت کعبہ کی طرف رخ کرکے طواف کرنا


سوال

  کتبِ فقہ میں ہے، کہ طواف کے دوران علاوہ استلام کے کعبہ کو منہ اور پیٹھ کرنا منع ہے، اور جس نے ایسا کیا تو اس مقدار طواف کا اعادہ کرنا واجب ہے، اب سوال یہ ہے کہ حرم شریف کے چھت پر تعمیراتی کام ہونے کی وجہ سے اس جگہ کو پردے کے ذریعے گھیر لیا جاتا ہے، اور طواف کرنے والوں کیلئے جانے کیلئے تھوڑا راستہ کھلا رکھا جاتا ہے، اب طواف والا جب اس جگہ پہنچ جاتا ہے تو اپنی رخ کی سیدھ سے تھوڑا یا مکمل مائل ہوجاتا ہے اور وہ تعمیراتی جگہ جب عبور کرتے وقت کعبہ کی طرف تھوڑا یا تمام منہ اور پیٹھ ہوجاتا ہے، چونکہ بغیر احرام والے اور ویل چیئر  والے کو نیچے مطاف میں طواف کی اجازت نہیں اسلئے وہ مجبوراً چھت پر طواف کرتا ہے، تو کیا اس صورت میں بھی طواف کو نامکمل سمجھا جائے گا یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ طواف کرنے والے کے لیے دوران طواف اپنی نظر سامنے رکھنی  چاہیے ، خانہ کعبہ کی طرف چہرہ کر کے دیکھنا  خلاف ادب ہے جبکہ  حالت طواف میں بیت اللہ کی طرف سینہ یا پشت کرنا جائز نہیں ،البتہ اگر حجر اسود یا رکن یمانی کا استلام کرتے وقت بیت اللہ کی طرف سینہ کرلیا جائے تو اس  میں کوئی  حرج نہیں، تاہم اس میں یہ ضروری ہے کہ استلام کرتے وقت دونوں قدم اپنی جگہ پر ہوں اور استلام كر کے بعد اسی جگہ سے بقیہ چکر کو پورا کیا جائے ،تاکہ طواف کا کچھ حصہ بھی بیت اللہ کی طرف منہ کرنے کی حالت میں طے نہ ہو جائے، کیونکہ طواف کا جتنے حصے ميں (اگرچہ ایک دو قدم ہی کیوں نہ ہوں) بیت اللہ کی طرف سینہ کر کے چلا جائے، اتنے حصےکا طواف نہ ہوگا، بلکہ اس کا اعادہ کرنا ہوگا۔   

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی آدمی نے  مذكوره عذر كی وجہ سے بیت اللہ کی طرف سینہ کر کے طواف کا کچھ حصہ ادا کیا، تواس حصے کے بقدر طواف کا اعادہ کرنا واجب ہے جتنے حصے کا اس نے بیت اللہ کی طرف سینہ کر کے طواف کیا ہے۔ کیونکہ جو عذر بندوں کی طرف سے پیش آئے وہ شرعاً معتبر نہیں ہوتا۔

 

وينبغي ‌أن ‌يبدأ ‌بالطواف من جانب الحجر الذي يلي الركن اليماني فيكون مارا على جميع الحجر بجميع بدنه فيخرج من خلاف من يشترط المرور كذلك عليه. وشرحه أن يقف مستقبلا على جانب الحجر بحيث يصير جميع الحجر عن يمينه ثم يمشي كذلك مستقبلا حتى يجاوز الحجر فإذا جاوزه انفتل وجعل يساره إلى البيت.(الفتاوى الهندية،كتاب المناسك،الباب فى كيفية أداء الحج، ج:1، ص:225)

(وأخذ) الطائف (عن يمينه مما يلي الباب) فتصير الكعبة عن يساره لأن الطائف كالمؤتم بها والواحد يقف عن يمين الإمام، ‌ولو ‌عكس ‌أعاد مادام بمكة فلو رجع فعليه دم وقال ابن عابدين تحته: (قوله ولو عكس) بأن أخذ عن يساره وجعل البيت عن يمينه، وكذا لو استقبل البيت بوجهه أو استدبره وطاف معترضا كما في شرح اللباب وغيره (قوله فلو رجع) أي إلى بلده قبل إعادته. (رد المحتار على  الدر المختار شرح تنوير الأبصار ج: 3، ص:506)

والطواف في جوف الحجر أن يدور حول الكعبة ويدخل الفرجتين اللتين بينها وبين الحطيم فإذا فعل ذلك فقد أدخل نقصا في طوافه فما دام بمكة أعاده كله ليكون مؤديا للطواف على الوجه المشروع " وإن أعاد على الحجر " خاصة " أجزأه " لأنه تلافي ما هو المتروك وهو أن يأخذ عن يمينه خارج الحجر حتى ينتهي إلى آخره ثم يدخل الحجر من الفرجة ويخرج من الجانب الآخر هكذا يفعله سبع مرات. (الهداية، كتاب الحج، ج:1، ص:162)   

قال في النهاية: قلت جاز أن تجب الإعادة على الخائف من العدو بالوضوء لأن ‌العذر ‌من ‌قبل ‌العباد اهـ. يعني وهم يفرقون بين العذر من قبل من له الحق ومن قبل العباد فيوجبون في الثاني (فتح القدير للكمال بن الهمام، ج:1  ص:137)


فتویٰ نمبر : 10821/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور