بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 31/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

اعتکاف کے دوران قرآن سنانے کے لیےجانا


سوال

مسنون اعتکاف میں معتکف دوسری مسجد قرآن سنانے کے لئے جاسکتا ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہے کہ مسنون اعتکاف کے دوران  مسجد سے بغیر کسی عذر کے نکلنا جائز نہیں  ،البتہ کوئی عذر ہو مثلا کوئی فطری ضرورت ہو  جیسے پیشاب، پاخانہ، اور واجب غسل ، یا  کوئی شرعی عذر ہو جیسے اذان دینا اگر وہ مؤذن ہو اور مسجد کا مینار مسجد سے باہر ہو یا نماز جمعہ کے لئے جانا ہو تو ان اعذار کی وجہ سے مسجد سے نکلنے کی صورت میں اعتکاف نہیں ٹوٹتا  ۔صورت مسئولہ کے مطابق دوسری  مسجد  تراویح میں قران سنانے کےلئے جانا چونکہ    نہ فطری ضرورت ہے اور نہ کوئی شرعی عذر ہے کیونکہ   قرآن سنانا  شرعا ضروری  نہیں،اس لئے  معتکف دوسری   مسجد قران سنانے کے لئے نہیں جاسکتا۔

 

(وأما مفسداته) ‌فمنها ‌الخروج ‌من ‌المسجد ‌فلا ‌يخرج ‌المعتكف ‌من ‌معتكفه ‌ليلا ‌ونهارا ‌إلا ‌بعذر، وإن خرج من غير عذر ساعة فسد اعتكافه سواء كان الخروج عامدا أو ناسيا۔ )الفتاوى الهندية،كتاب الصوم،الباب السابع في الاعتكاف،ج:1،ص:212۔)

 ‌الخروج ‌إلا ‌لحاجة ‌الإنسان) ‌طبيعية ‌كبول ‌وغائط ‌وغسل ‌لو ‌احتلم ‌ولا ‌يمكنه ‌الاغتسال ‌في ‌المسجد ‌كذا ‌في ‌النهر (‌أو) ‌شرعية ‌كعيد ‌وأذان ‌لو ‌مؤذنا ‌وباب ‌المنارة ‌خارج ‌المسجد.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصوم،باب الاعتكاف،ج:2،ص:445)


فتویٰ نمبر : 10460/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور