بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 30/08/2026

دارالافتاء

 دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور
 

معذرو شخص کی طرف سے حج بدل کرنا


سوال

میرا دوست فالج کا بیمار ہے۔اس نےاس سال حج کے لئے داخلہ کیا ہےاور ساتھ ہی معاون کی حیثیت سے میرا داخلہ بھی کیا ہے۔اب پوچھنا یہ ہےکہ اگر بالفرض اس نےحج تمتع کے لئے پاکستان سےعمرہ کی نیت کرکےعمرہ ادا کیا۔ اور ساتھ میں نے بھی، لیکن ایام حج کے شروع ہوتے ہی اس کی بیماری شدید ہوگئی،جس سے وہ بذاتِ خود حج ادا نہیں کر سکتا ۔ تو کیا اس صورت میں،میں اس کے لئے حج بدل کرسکتا ہوں؟اگر جائز ہو تو میں حج افراد کی نیت کروں گا یا کہ حج تمتع کی؟ اور تمتع کی صورت میں قربانی کا کیا حکم ہوگا؟ واضح رہے کہ میں پہلے ہی فریضہ حج ادا کر چکا ہوں۔

جواب

 اگر کسی  شخص پر حج فرض ہوچکا ہو،اور وہ کسی ایسی دائمی بیماری میں مبتلا ہوجائے،جس سے صحت یابی کی امید نہ ہو تواس پرلازم  ہے کہ  اپنی طرف سے کسی دوسرے آدمی کوحج بدل کےلیے بھیجے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق اگرسائل  کا دوست ایام حج میں ایسی دائمی بیماری میں مبتلا ہو جائے،جس سےصحت یابی کی امید نہ ہوتوایسی صورت میں اس کا کسی سے سے حجِ بدل  کرانا جائز ہوگا،اورجس حج کاحکم آمرکردے،مامور پر وہی حج اداکرنا لازم ہوگا،البتہ حج تمتع اور قران میں دم شکرمامور کے ذمہ ہے،اگر آمر کی جانب سے ملے تو ٹھیک ورنہ  وہ خود ادا کرے۔

 

وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا تُجْزِئَ النِّيَابَةُ فِي الْحَجِّ لِتَضَمُّنِهِ الْمَشَقَّتَيْنِ الْبَدَنِيَّةِ وَالْمَالِيَّةِ، وَالْأُولَى لَا يُكْتَفَى فِيهَا بِالنَّائِبِ، لَكِنَّهُ تَعَالَى رَخَّصَ فِي إسْقَاطِهِ بِتَحَمُّلِ الْمَشَقَّةِ الْمَالِيَّةِ عِنْدَ الْعَجْزِ الْمُسْتَمِرِّ إلَى الْمَوْتِ رَحْمَةً وَفَضْلًا، بِأَنْ تُدْفَعَ نَفَقَةُ الْحَجِّ إلَى مَنْ يَحُجُّ عَنْهُ(ردالمحتار علی الدرالمختار،ج:4،ص:13)

الرَّابِعَ عَشَرَ عَدَمُ الْمُخَالَفَةِ، فَلَوْ أَمَرَهُ بِالْإِفْرَادِ فَقَرَنَ أَوْ تَمَتَّعَ وَلَوْ لِلْمَيِّتِ لَمْ يَقَعْ عَنْهُ وَيَضْمَنُ النَّفَقَةَ(ردالمحتار علی الدر المختار،ج:4،ص:17)

(وَدَمُ الْإِحْصَارِ) لَا غَيْرَ (عَلَى الْآمِرِ فِي مَالِهِ وَلَوْ مَيِّتًا) ۔۔۔ (وَدَمُ الْقِرَانِ) وَالتَّمَتُّعِ (وَالْجِنَايَةِ عَلَى الْحَاجِّ) إنْ أَذِنَ لَهُ الْآمِرُ بِالْقِرَانِ وَالتَّمَتُّعِ وَإِلَّا فَيَصِيرُ مُخَالِفًا فَيَضْمَنُ(ردالمحتار علی الدر المختار،ج:4ص:32)


فتویٰ نمبر : 10453/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور